پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

اپنا میٹر اپنی ریڈنگ ایپ کیسے استعمال کریں، صارفین کو کیا فائدہ حاصل ہوگا؟

datetime 30  جون‬‮  2025 |

لاہور (این این آئی) وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بجلی کے شعبے میں شفافیت اور صارفین کو بااختیار بنانے کے لیے نئی اسمارٹ ایپ اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ کا مقصد اوور بلنگ، ریڈنگ کی غلطیوں اور ریڈنگ میں تاخیر جیسے مسائل کا مستقل حل فراہم کرنا ہے۔پاور ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق صارفین کو مقررہ تاریخ پر اپنے بجلی کے میٹر کی تصویر ایپ پر اپ لوڈ کرنے کی سہولت حاصل ہوگی اور اسی تصویر کی بنیاد پر ان کا ماہانہ بجلی کا بل تیار کیا جائے گا۔حکام کے مطابق نئی ایپ سے صارفین اپنے بل پر نہ صرف نظر رکھ سکیں گے بلکہ ریڈنگ کے عمل کے خود نگہبان بھی ہوں گے۔

اس اقدام سے بلنگ کے نظام میں شفافیت آئے گی اور صارفین کو ان کے بجلی کے اصل استعمال کے مطابق بل جاری کیا جا سکے گا۔نئے نظام میں مقررہ دن کے بعد میٹر ریڈر کی لی گئی ریڈنگ کو ترجیح نہیں دی جائے گی بلکہ صارف کی فراہم کردہ تصویر اور ریڈنگ ہی سرکاری ریکارڈ میں فیڈ کی جائے گی۔ اس سے صارفین کو اضافی بلنگ سے بچنے میں مدد ملے گی۔اعلامیے میں مزید بتایا گیا کہ 200 یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کا اوسط بل تقریباً 2,330روپے بنتا ہے اور اگر وہ مقررہ وقت پر اپنی ریڈنگ فراہم کرتے ہیں تو انہیں سبسڈی اور دیگر حکومتی مراعات کا بروقت فائدہ بھی مل سکے گا۔

ایپ کے نظام کے تحت اگر صارف اور میٹر ریڈر دونوں ریڈنگ اپ لوڈ کریں تو کم ریڈنگ کو ترجیح دی جائے گی تاکہ صارفین کو مالی تحفظ حاصل ہو۔پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اپنا میٹر، اپنی ریڈنگ جیسے جدید فیچرز نہ صرف بجلی کے نظام کو ڈیجیٹل بنا رہے ہیں بلکہ صارفین کو بااختیار بنانے اور بجلی کی تقسیم کے نظام میں بہتری کا ذریعہ بھی بنیں گے۔یہ نظام خاص طور پر ان صارفین کے لیے فائدہ مند ہے جو حکومتی سبسڈی کے مستحق ہیں، کیونکہ ایپ کے ذریعے بروقت ریڈنگ دے کر وہ اپنی سبسڈی سے مکمل فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ایپ سے نہ صرف اوور بلنگ کی شکایات کم ہوں گی بلکہ غیر ضروری مداخلت اور بدانتظامی کا بھی خاتمہ ممکن ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…