منگل‬‮ ، 05 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیٹے کو سزائے موت،سعودی حکومت کوعلی باقر کے والد کی دھمکی

datetime 24  ستمبر‬‮  2015 |

ریاض (نیوزڈیسک)انسانی حقوق کے کارکن سعودی عرب میں سزائے موت کے مجرم ایک نوجوان کی رہائی کے لیے آن لائن مہم چلا رہے ہیں لیکن سعودی عرب کے اندر اس حوالے سے بحث فرقہ وارانہ بنیادوں پر منقسم ہو گئی ہے جبکہ علی باقر کے والد نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو سزائے موت دی گئی تو ملک میں شیعہ برادری کا ردعمل انتہائی پرتشدد ہوگا۔ اب انسانی حقوق کے کارکن اس مقدمے کی چیدہ چیدہ نکات کو آن لائن شیئر کر رہے ہیں۔ان کے خلاف ریاست کے خلاف جرائم کے مختلف الزامات ہیں۔ یہ سب سعودی حکومت کے خلاف مظاہروں میں شرکت کے باعث عائد کیے گئے۔ سزائے موت کے خلاف ان کی اپیلیں خارج کر دی گئی ہیں۔النمر پر الزام ہے کہ انھوں نے ملک کے مشرقی حصے میں سنہ 2012 میں ہونے والے حکو مت مخالف مظاہروں میں حصہ لیا تھا۔ ان کا تعلق شیعہ اقلیت سے ہے اور انھیں اسی برس گرفتار کیا گیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 17 برس تھی۔سرکاری میڈیا کے مطابق بعدازاں انھیں کئی جرائم کا مرتکب پایا گیا جن میں بغاوت، شاہ سے وفاداری توڑنا، سکیورٹی اہلکاروں کے خلاف پٹرول بم کا استعمال، ڈاکہ زنی سمیت کئی دیگر الزامات شامل ہیں۔بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن جس پر سعودی عرب نے دستخط کر رکھے ہیں 18 سال سے کم عم بچوں کو سزائے موست سے مستثنیٰ قرار دیتا ہے۔علی محمد النمر کے والد محمد النمر نے غیرملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ شاہ سلمان ان کے بیٹے کی سزائے موت پر عملدرآمد کے حکمنامے پر دستخط نہیں کریں گے۔تاہم انھوں نے متنبہ کیا کہ اگر ان کے بیٹے کی سزا پر عملدرآمد کردیا جاتا ہے تو ملک میں شیعہ برادری کی جانب سے پرتشدد ردعمل ہو گا،ہم یہ نہیں چاہتے۔ ہم خون کا ایک قطرہ بھی بہانہ نہیں چاہتے۔محمد النمرنے اعتراف کیا کہ ان کے بیٹے نے ہزاروں افراد کے ساتھ مظاہرے میں حصہ لیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ علی النمر چوری، پولیس پر حملے اور آتشزنی میں ملوث نہیں تھا۔اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ النمر پر تشدد کیا گیا اور اس کے خلاف شفاف مقدمہ بھی نہیں چلایا گیا۔دوسری جانب فرانس کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے ’فرانس کو علی میمد النمر کے معاملے پر بے حد تشویش ہے جن کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا وہ بالغ نہیں تھے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے فرانس کسی بھی صورت میں سزائے موت کے خلاف ہے اور مطالبہ کرتے ہیں کہ سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)


ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…