جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سیلاب متاثرہ کسانوں کو بنا سود قرضے دینے کا اعلان

datetime 13  جون‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی) نیشنل بینک آف پاکستان نے سیلاب سے متاثرہ کسانوں کے لئے سود سے پاک وزیراعظم کسان پیکیج کا اعلان کردیا ہے۔اس اقدام کا مقصد ان کسانوں کا مالی معاونت فراہم کرنا ہے جنہوں نے سیلاب کے باعث نقصانات برداشت کرنے پڑے اور انہیں مالی تعاون کی ضرورت ہے۔

این بی پی ایسے کسانوں کو خاص طور پر بیج اور کھاد کی خریداری کے لئے 2 لاکھ روپے تک قرضوں کی فراہمی کی پیشکش کررہا ہے۔بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ قرض ان کسانوں کو دیا جائے گا جن کے پاس اپنی زرعی اراضی نہیں ہے۔ پیکیج کے تحت قرضہ 6 ماہ کی مدت میں بآسانی اور سہولت کے ساتھ واپس کیا جاسکتا ہے۔ جن کسانوں کے پاس اپنی زرعی زمینیں ہیں وہ 5 لاکھ روپے مالیت تک کے قرضوں کے لئے اہل ہوں گے۔کسان اس قرض کی رقم کو لائیواسٹاک سمیت دیگر زرعی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔ قرضہ 6 ماہ سے 3 سال کی مدت میِں واپس کیا جاسکتا ہے جس کے لئے قرض خواہ کے حالات کی بنیاد پر واپس ادائیگی کے آسان اور باسہولت آپشنز رکھے گئے ہیں۔اس کے علاوہ این بی پی کے زرعی افسران درخواست کے پورے عمل کے دوران کسانوں کو رہنمائی فراہم کرنے کے لئے تکنیکی معاونت اور ماہرانہ مشورے دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…