منگل‬‮ ، 24 مارچ‬‮ 2026 

غداری کیس کی سماعت کرنیوالی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا گیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2014 |

اسلام آباد۔۔۔۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا ہے۔ہائی کورٹ کے جج اطہر من اللہ نے یہ حکم سابق چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور سابق وزیرِ قانون زاہد حامد کی جانب سے دائر کردہ درخواستوں پر دیا۔ان تینوں افراد کو خصوصی عدالت نے 21 نومبر کو اپنے فیصلے میں غداری کے مقدمے میں شریک ملزم بنانے کا حکم دیا تھا۔تینوں درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ کسی فرد کو شریکِ جرم بنانے کا اختیار عدالت کے پاس نہیں بلکہ صرف وفاق کے پاس ہے اور خصوصی عدالت نے اس سلسلے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کو چاہیے تھا کہ وہ کسی تفتیشی ادارے کو یہ ذمہ داری سونپتی کہ ان تینوں افراد پر عائد الزامات کا جائزہ لے رپورٹ پیش کرے۔منگل کو سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے مدعیان سے استفسار کیا کہ کس طرح ایک خصوصی عدالت یا بینچ کو کام کرنے سے روکا جا سکتا ہے۔جس پر درخواست گزاروں کے وکلا خواجہ حارث، وسیم سجاد اور افتخار گیلانی نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا۔ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں سپریم جوڈیشل کونسل کو سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے خلاف زیرِ سماعت صدارتی ریفرنس کی سماعت سے ایک عدالتی حکم نامے کے ذریعے روکا گیا تھا اور پھر ایک فل کورٹ بینچ نے اس ریفرنس کی سماعت کی تھی۔درخواست گزاروں کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ جب تک ان کی درخواستوں پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک خصوصی عدالت کی کارروائی روک دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو سکیں گے۔اس پر عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل فروغ نسیم سے استفسار کیا کہ انھیں خصوصی عدالت کی کارروائی روکنے پر کوئی اعتراض تو نہیں اور ان کی جانب سے اعتراض نہ کیے جانے پر جسٹس اطہر من اللہ نے خصوصی عدالت کو کام کرنے سے روک دیا۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت کے لیے تین فروری 2015 کی تاریخ مقرر کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی۔
تاہم اس وقت تک سنگین غداری کا مقدمہ سننے والی خصوصی عدالت کی کارروائی معطل رہے گی۔



کالم



مذہب کی جنگ(آخری حصہ)


اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…