جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم نے کئی سالوں سے لاپتہ بچی کو والد سے ملوا دیا

datetime 18  مئی‬‮  2023 |

نیو یارک (این این آئی) نیٹ فلکس کی دستاویزی فلم نے نو سال کی عمر میں اغوا ہونے والی بچی کو دوبارہ والد سے ملوادیا۔ریان اسکرکا نامی شخص جن کے پاس لاپتہ ہونے کے وقت اپنی بیٹی کائلہ انبیہون کی مکمل تحویل تھی وہ 5 جولائی 2017 کو جنوبی ایلگین کے علاقے وہیٹن میں اس کی ماں کے گھر سے اسے لینے گئے تھے لیکن اس بچی کو اس کی ماں ہیتھر انبیہون نے اغواء کر لیا تھا اور یوں یہ ماں اپنی بیٹی کو لے کر برسوں تک اِدھر ادھر بھاگتی رہی۔

نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلوئٹڈ چلڈرن نے اس بچی کی گمشدگی کے بعد آن لائن گمشدگی کے انتباہات بھی شائع کیے اور ڈیجیٹل تصاویر پوسٹ کیںجس کے بعد اسے گزشتہ ہفتے کے آخر میں شمالی کیرولائنا کے علاقے ایشیویل میں ایک سٹور کے مالک نے دیکھا اور پہچان لیا کیونکہ سٹور کے مالک نے اس بچی کا چہرہ نیٹ فلکس کی دستاویزی فلمان سولوڈ مِسٹریزمیں دیکھا تھا۔سٹور مالک نے فوری طور پر پولیس کو فون کیا اور بچی کی ماں جس کے پاس بچی کے اغواء کے وقت صرف اس سے ملاقات کے حقوق تھے کو گرفتار کر لیا گیا۔ حکام نے کائلہ کے والد ریان کو بچی کی بازیابی کی اطلاع دے جو اب 15سال کی ہے اور حفاظتی تحویل میں بالکل خیریت سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…