منگل‬‮ ، 11 اگست‬‮ 2026 

پرائم منسٹر لون اسکیم کے تحت نوجوانوں کیلئے قرضوں کے حصول کا طریقہ کار جاری

datetime 16  جولائی  2019 |

اسلام آباد /لاہور( این این آئی )اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پرائم منسٹر لون اسکیم کے تحت نوجوانوں کیلئے قرضوں کے حصول کا طریق کار جاری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے وزیر اعظم کی جانب سے نوجوانوں کو چھوٹے کاروبار کے لیے آسان شرائط پر بلاسود قرضوں کی فراہمی کے پروگرام پرائم منسٹر کامیاب جوان ایس ایم ای لینڈنگ پروگرام کے تحت قرضے کے حصول کا طریق کار جاری کردیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق قرضے کے لیے درخواست فارم نیشنل بینک، بینک آف پنجاب اور بینک آف خیبر کی شاخوں اور ویب سائٹس سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ درخواست فارم پر اپنے ٹول فری نمبر بھی درج کریں تاکہ اپنا کاروبار کرنے والے نوجوانوں کی رہنمائی کی جاسکے۔درخواست فارمز کا اجرا وزیر اعظم کی جانب سے پروگرام کے باضابطہ افتتاح کے فوری بعد شروع کردیا جائے گا۔ پروگرام کے تحت نوجوان اپنے کاروبار کے لیے بینکوں سے ایک لاکھ سے 50 لاکھ تک کے قرضے حاصل کرسکتے ہیں جن پر سود حکومت ادا کرے گی اور قرضہ پر نقصانات پر زر تلافی کا بوجھ بھی خود حکومت اٹھائے گی۔کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ کے حامل 21 سے 45 سال کی عمر کے مرد اور خواتین اس پروگرام کے تحت اپنا کاروبار شروع کرنے کے لیے قرضہ لے سکتے ہیں۔ آئی ٹی اور ای کامرس کے لیے عمر کی حد میں خصوصی رعایت دی گئی ہے اور 18 سال کی عمر کے نوجوان ای کامرس یا آئی ٹی سے متعلق کاروبار کے لیے اس اسکیم سے استفادہ کرسکتے ہیں۔پروگرام کے تحت قرضوں کی مالیت کے لحاظ سے دو درجات ہیں پہلے درجہ میں ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے جبکہ دوسرے درجہ میں آنے والے کاروبار کے لیے پانچ لاکھ سے پچاس لاکھ روپے تک کے قرضے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

یہ قرض ورکنگ کپیٹل اور ٹرم لونز کی شکل میں دیے جائیں گے جن کی مدت 8 سال ہے جس میں ایک سال کا اضافہ کیا جاسکے گا۔پہلے درجہ کے کاروبار کے لیے نوجوانوں کو اپنے پاس سے بھی 10 فیصد سرمایہ لگانا ہوگا جبکہ دوسرے درجہ کے کاروبار کے لیے نوجوانوں کو 20 فیصد سرمایہ مہیا کرنا ہوگا۔قرضوں کے لیے خواتین کا کوٹا 25 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے تک کے قرضے شخصی ضمانت پر دیے جائیں گے .

پانچ لاکھ سے پچاس لاکھ کے قرضے بینک اپنے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری کریں گے۔ وفاقی حکومت قرضوں کے ڈوبنے کی صورت میں چھوٹے قرضوں پر 50 فیصد اور بڑے قرضوں کا 10 فیصد نقصان ادا کرے گی۔نیشنل بینک آف پاکستان پروگرام کے تحت 50 فیصد قرضے جاری کرے گا باقی قرضے بینک آف پنجاب اور بینک آف خیبر اسٹیٹ بینک کی نگرانی اور مشاورت سے جاری کریں گے۔

اسٹیٹ بینک نے دیگر کمرشل بینکوں پر بھی زور دیا ہے کہ اس پروگرام کا حصہ بنیں۔ اس پروگرام کے تحت اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے متعین کردہ پیمانوں پر پورا اترنے والی اسکیموں، پراجیکٹس کے علاوہ نجی شعبہ کے ڈیزائنر کردہ پراجیکٹس کے لیے بھی قرضہ جاری کیے جائیں گے۔قرضوں کی درخواستوں کی پراسیسنگ 15 روز کے اندر مکمل کی جائے گی، اس پروگرام کے تحت نئے کاروبار کے علاوہ پہلے سے جاری کاروبار کی توسیع کے لیے بھی قرضہ لیا جاسکتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)


ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…