جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

’’عدالتوں کو تالے لگنا ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے‘‘ چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ وکلاء کی ہڑتال کے آگے بے بس

datetime 23  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این) چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالتوں کو تالے لگنا ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے،ججز کی پارکنگ، سائلین کی جگہ، آئیسکو دفاتر ہر جگہ وکلا نے قبضہ کرلیا۔اسلام آباد کچہری کے معاملات سے متعلق درخواست پر چیف جسٹس نے سماعت کی۔ کچہری میں ایک ماہ سے جاری وکلا کی ہڑتال پر چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ وفاقی دارالحکومت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدالتوں کو تالے لگے۔

عدالتوں کو تالے لگنا ریکارڈ پر ہے جو ہمارے لئے شرمندگی کا باعث ہے، ججز کی پارکنگ، سائلین کی جگہ، آئیسکو کے دفاتر سب جگہوں پر وکلا نے قبضہ کرلیا۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ سیکورٹی اداروں نے کچہری کوسیکورٹی رسک قراردے دیا ہے، بار کی میٹنگز مجھ سے ہورہی تھیں پھر اچانک ہڑتال پر جانا سمجھ نہیں آیا، ججز نے ہڑتال نہیں کی تفصیلی رپورٹ میرے پاس آگئی، جہاں بار کو طاقت ور ہوناچاہئے وہاں مخصوص لابی طاقت ور ہے، ہزاروں مقدمات التوا کاشکار ہوگئے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ہم تنگ آگئے ہیں ججز کام نہیں کررہے،آپ مداخلت کریں، آپ کچہری میں آئیں حالات کا خود جائزہ لیں تاکہ معاملہ حل ہو، اگر تھوڑا کچھ ہوا ہے تو ہم معذرت کرنے اوربیٹھنے کے لئے تیارہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ بار کی بجائے مخصوص لوگ طاقت ورہوں گے تو ہم کیاکریں، طاقت ورلابی کے خلاف بار کو خود کھڑا ہونا ہے۔عدالت نے سیکریٹری داخلہ،سکریٹری قانون وانصاف،چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنراسلام آباد،آئی جی اسلام آبا، صدراسلام آبادبارایسوسی ایشن اوروائس چیئرمین اسلام آبادبارکونسل کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔ ہائی کورٹ نے تمام فریقین کوتفصیلی رپورٹس بھی جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ کیس کی سماعت 4 فروری تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…