جعلی اور غیررجسٹرڈ گاڑیوں کے خاتمے کیلئے نیا سسٹم آ گیا

  جمعرات‬‮ 23 جون‬‮ 2016  |  23:20

لاہور(آئی این پی ) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدرات جمعرات کو پنجاب اسمبلی کے کمیٹی روم میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا ۔جس میں صوبے سے جعلی اور غیررجسٹرڈ گاڑیوں کے خاتمے کیلئے ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم (DVRS) کے اہم خدو خال کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم کو بیک وقت لاہور، ملتان اور فیصل آباد میں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا اور اس نئے نظام سے شہریوں کو موٹرسائیکل یا گاڑی کی رجسٹریشن کرانے میں سہولت ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جعلی نمبر پلیٹس کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کا سدباب ایک چیلنج ہے۔ جرائم یا دہشت گردی کی وارداتوں میں اکثر جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیاں یا موٹرسائیکلیں استعمال ہوتی ہیں لہذا ایسی گاڑیوں یا موٹر سائیکلوں کوسڑک پر آنے سے روکنے کیلئے فوری طورپر موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔وزیراعلیٰ نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی یا موٹر سائیکل کے استعمال کی روک تھام کیلئے موثر قانون سازی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ جعلی نمبر پلیٹس والی گاڑیاں استعمال کرنے والوں کیلئے قانون سازی کے ذریعے قید کی سزا رکھی جائے اور محکمہ ایکسائز و ٹیکسیشن جعلی اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے سدباب کیلئے جامع اور فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی وی آر ایس بہترین نظام ہے تاہم اس کا دائرہ کار ہر شہر تک بڑھانا ہوگا۔ اس نظام سے کرپشن کم ہوگی اور وسائل میں اضافہ ہوگا۔ انہو ں نے کہا کہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سروس سنٹرز سے بھی نمبر پلیٹس کے اجراء کا جائزہ لیا جائے ۔ سپیشل مانیٹرنگ یونٹ کے سینئر ممبر سلمان صوفی نے ڈیلر وہیکل رجسٹریشن سسٹم کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ صوبائی وزراء رانا ثناء اللہ، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن، پارلیمانی سیکرٹری میاں محمد منیر، متعلقہ سیکرٹریز اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔



زیرو پوائنٹ

سانو۔۔ کی

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎

سانو ۔۔کی پنجابی زبان کا ایک محاورہ یا ایکسپریشن ہے‘ اس کا مطلب ہوتا ہے ہمیں کیا فرق پڑتا ہے‘ ہمارے باپ کا کیا جاتا ہے‘ ہمارا کیا نقصان ہے یاپھر آئی ڈونٹ کیئر‘ ہم پنجابی لوگ اوپر سے لے کر نیچے تک اوسطاً دن میں تیس چالیس مرتبہ یہ فقرہ ضرور دہراتے ہیں لہٰذا اس کثرت استعمال کی وجہ ....مزید پڑھئے‎