جمعرات‬‮ ، 17 ستمبر‬‮ 2026 

سابق افغان سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت، امریکہ اور یورپ کو تشویش

datetime 5  دسمبر‬‮  2021 |

کابل (این این آئی)امریکہ اور یورپ سمیت دیگر ممالک نے طالبان کے ہاتھوں افغان سکیورٹی فورسز کے سابق اہلکاروں کی مبینہ ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کی مذمت کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اتوار کو امریکہ، یورپی یونین، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان اور دیگر ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ہمیں ماورائے

عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کی رپورٹس پر تشویش ہے۔ یہ بیان امریکی محکمہ خارجہ نے جاری کیا جس میں ماورائے عدالت قتل اور جبرہ گمشدگیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مبینہ کارروائیاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں اور یہ طالبان کی جانب سے عام معافی کے اعلان کے برعکس ہے۔ان ممالک نے افغانستان کے نئے حکمرانوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ’عام معافی کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے اور شفاف طریقے سے رپورٹ ہوئے کیسز کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔ ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کو ان کے اقدامات کی بنیاد پر پرکھا جائے گا۔رواں ہفتے کے اوائل میں ہیومن رائٹس واچ کی ایک نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ طالبان نے افغان سکیورٹی فورسز کے سو سے زیادہ سابق اہلکاروں کو ہلاک اور جبری طور پر لاپتہ کیا ہے جبکہ سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے خاندانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا تھا کہ عام معافی کے اعلان کے باوجود سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔طالبان نے اگست میں افغانستان کا کنٹرول حاصل کیا اور امریکی حمایت یافتہ حکومت اور ملک کی فوج پسپا ہوگئی تھی۔رواں ہفتے واشنگٹن نے طالبان حکام کے ساتھ مذاکرات کیے تھے۔ مذاکرات میں امریکہ نے طالبان پر زور دیا تھا کہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم تک رسائی دی جائے۔امریکہ نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…