منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

دن میں 8گلاس پا نی پینا ضروری نہیں، ما ہرین نے در ست مقدار بتا دی

datetime 29  جولائی  2016 |

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) اچھی صحت کیلئے روانہ 8 گلاس پانی پینے کی نصیحت اس قدر زیادہ کی جاتی ہے کہ اب بچے بچے کو یہ بات معلوم ہوچکی ہے، مگر سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق کے بعد اس بہت عام پائے جانے والے خیال کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دے کر دنیا کو حیرانی میں مبتلاءکردیا ہے۔ انڈیانا یونیورسٹی کے پروفیسر ایرن ای کیرل کا کہنا ہے کہ وہ اس جھوٹ سے اس قدر تنگ آگئے کہ ’نیویارک ٹائمز‘ میں اس کے متعلق ایک مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ماہرین صحت نے یہ رائے پیش کی کہ پانی کی روزانہ ضرورت 8 گلاس کے برابر ہے، مگر اس میں وہ پانی بھی شامل ہے جو سبزیوں، پھلوں اور دیگر خوراک میں موجود ہوتا ہے اور بالواسطہ طور پر ہمارے جسم میں پہنچتا ہے۔ اس رائے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ روزمرہ خوراک کے ساتھ اضافی طور پر 8 گلاس پانی بھی پیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غلط فہمی کا آغاز غالباً 1945ئ کی فوڈ اینڈ نیوٹریشن سفارشات سے ہوا، لیکن لوگوں نے یہ بات نظر انداز کردی کہ پانی کی بتائی گئی مقدار کا زیادہ تر حصہ ہماری روزمرہ خوراک میں پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔
پروفیسر کیرل نے اپنے مضمون میں واضح کیا ہے کہ 8 گلاس پانی پی کر جلد کو نرم و ملائم، چہرے کو خوبصورت اور جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا نظریہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ روزانہ 8 گلاس پانی پینے کی کوشش میں خود کو مصیبت میں مت ڈالیں کیونکہ آپ کے جسم کو صرف اتنے پانی کی ضرورت ہے جتنی آپکو پیاس محسوس ہو، لہٰذا جب پیاس محسوس ہو تو ضرورت کے مطابق پانی پی لیں، یہی آپ کے لئے پانی کی مناسب ترین مقدار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…