پیر‬‮ ، 08 جون‬‮ 2026 

دن میں 8گلاس پا نی پینا ضروری نہیں، ما ہرین نے در ست مقدار بتا دی

datetime 29  جولائی  2016 |

سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) اچھی صحت کیلئے روانہ 8 گلاس پانی پینے کی نصیحت اس قدر زیادہ کی جاتی ہے کہ اب بچے بچے کو یہ بات معلوم ہوچکی ہے، مگر سائنسدانوں نے ایک حالیہ تحقیق کے بعد اس بہت عام پائے جانے والے خیال کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دے کر دنیا کو حیرانی میں مبتلاءکردیا ہے۔ انڈیانا یونیورسٹی کے پروفیسر ایرن ای کیرل کا کہنا ہے کہ وہ اس جھوٹ سے اس قدر تنگ آگئے کہ ’نیویارک ٹائمز‘ میں اس کے متعلق ایک مضمون لکھنے کا فیصلہ کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ ابتدائی طور پر ماہرین صحت نے یہ رائے پیش کی کہ پانی کی روزانہ ضرورت 8 گلاس کے برابر ہے، مگر اس میں وہ پانی بھی شامل ہے جو سبزیوں، پھلوں اور دیگر خوراک میں موجود ہوتا ہے اور بالواسطہ طور پر ہمارے جسم میں پہنچتا ہے۔ اس رائے کا مطلب ہرگز یہ نہیں تھا کہ روزمرہ خوراک کے ساتھ اضافی طور پر 8 گلاس پانی بھی پیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس غلط فہمی کا آغاز غالباً 1945ئ کی فوڈ اینڈ نیوٹریشن سفارشات سے ہوا، لیکن لوگوں نے یہ بات نظر انداز کردی کہ پانی کی بتائی گئی مقدار کا زیادہ تر حصہ ہماری روزمرہ خوراک میں پہلے ہی موجود ہوتا ہے۔
پروفیسر کیرل نے اپنے مضمون میں واضح کیا ہے کہ 8 گلاس پانی پی کر جلد کو نرم و ملائم، چہرے کو خوبصورت اور جسم کو بیماریوں سے محفوظ رکھنے کا نظریہ مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ روزانہ 8 گلاس پانی پینے کی کوشش میں خود کو مصیبت میں مت ڈالیں کیونکہ آپ کے جسم کو صرف اتنے پانی کی ضرورت ہے جتنی آپکو پیاس محسوس ہو، لہٰذا جب پیاس محسوس ہو تو ضرورت کے مطابق پانی پی لیں، یہی آپ کے لئے پانی کی مناسب ترین مقدار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…