اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف چیزوں کے ریٹ بڑھانے کا کہہ رہا ہے ورنہ قسط نہیں ملے گی، مفتاح اسماعیل

datetime 21  جنوری‬‮  2023 |

کوئٹہ(مانیٹرنگ، این این آئی)پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما و سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہا کہ ایکسپورٹ بڑھانے، امپورٹ کم کرنے کے علاوہ معیشت کی بحالی کا کوئی طریقہ نہیں، ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف چیزوں کے ریٹ بڑھانے کا کہہ رہا ہے، نہیں بڑھائیں گے تو قسط نہیں ملے گی،

دوسری جانب انہوں نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ عمران خان 15 ارب ڈالر خسارہ چھوڑ کر گئے، ہم ایک ملک سے قرض پکڑ کر دوسرے کو دے رہے ہیں، مطلب ٹوپی گھما رہے ہوتے ہیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہاکہ پاکستان ایک بہترین ملک ہے لیکن زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے مفید نہیں رہا، کوئی باہر سے نہیں آئے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اس وقت کافی معاشی چیلنجز کا سامنا ہے، مشرف دور سے قرض لے رہے آج 50 ہزار ارب تک کا قرض ہو گیا ہے، آج قرضے واپس کرنا مشکل ہو گیا ہے، ہم ایک ملک سے پکڑ کر دوسرے کو دیتے ہیں، مطلب ٹوپی گھما رہے ہوتے ہیں۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمیں اب قرضوں کے بجائے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہو گا، اگر پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو ہر پاکستانی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 80فیصد سکولز بند پڑے ہیں، پاکستان کا تصور نو کر رہے ہیں تو سب کو اپنے آپ کو بہتر کرنا ہو گا، نئے تصور شدہ پاکستان میں ہر بچے کو سکول بھیجنا ہو گا، جس بچے نے رات کو روٹی نہ کھائی ہو اس بچے کو صبح پڑھا نہیں سکتے۔مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ہمیں سکولوں کے اندر بچوں کو بھیجنا ہو گا، ہمیں وہ پاکستان چاہیے جہاں سب بچے سکول میں پڑھ رہے ہوں، پاکستان میں 40 فیصد بچوں کواسٹنٹ گروتھ کا مسئلہ ہے، 86 فیصد بچوں کوجو خوراک ملنی چاہیے نہیں مل رہی، کیا اس لیے پاکستان بنا تھا؟انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ پاکستان چاہئے جہاں سب کو روزگار ملے، بنگلا دیش، بھارت، ویت نام آج پاکستان سے آگے نکل گئے ہیں، این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کو اس سال 400 ارب ملیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…