ٓٓآج رات اس نے کچھ زیادہ ہی پی لی تھی۔ قدموں میں لرزش تھی۔ ہوش و حواس درست نہ تھے، لڑکھڑاتا چلا جا رہا تھا جودیکھتاایک نفرت انگیز نگاہ ڈالتا اور اپنی راہ لیتا۔ اس لئے کہ ملت اسلامیہ کا ضمیر ہمیشہ سے شراب اور شرابیوں سے نفرت کرتا آیا ہے۔ ۔۔۔۔۔ لوگ اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھتے، مگر اس کو کیا کیجئے کہ اس کے سر پر ستارہ اقبال مندی چمک رہا تھا اور ان حقارت آمیز نگاہوں کے پیچھے تقدیر کھڑی مسکرا رہی تھی،
چلتے چلتے بشر حافی کی نگاہ اسی نشے کی حالت میں زمین پر پڑے ہوئے ایک کاغذ پر پڑی جس پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا تھا۔ بشر حافی اگرچہ نشے میں تھا لیکن رحمٰن و رحیم رب کے نام کی عزت کا جذبہ اس کے دل میں موجود تھا۔ ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔ کپکپاتے ہاتھوں سے اس کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھایا، اسے بوسہ دیا اور موڑ کر جیب میں رکھ لیا کہ میرے مالک کا نام ہے اس کی توہین ہو رہی ہے اور پھر مے خانے میں داخل ہو گیا۔ رات بھر دور جام چلتا رہا اور عین اسی وقت بغداد کے ایک ولی کو خواب میں یہ پیغام دیا جا رہا تھا کہ بشر حاضی سے جا کر کہہ دو کہ تم نے میرے نام کو بلند کیا ہے۔ ہم نے تمہیں بلند کر دیا۔ تم نے میرے نام کی تعظیم کی، میںنے تمہیں ہمیشہ کے لئے عزت بخش دی ہے تم نے ہمارے نام کو پاک کیا، ہم نے تمہیں گناہ کی آلائشوں سے پاک کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کے ولی نےصبح کی نماز مسجد میں ادا کی اور سیدھے مے خانے کے دروازے پر پہنچ گئے۔ ننگے سر، ننگے پیر بشر مے کدے سے نکل رہے تھے کہ دروازے پر ولی نے بشر کو اللہ تعالیٰ کاپیغام پہنچایا۔ بشر کو ہوش آ گیا۔ ولی کامل حضرت فتح موسلی ؒ کا ہاتھ تھا اور توبہ کر کے طریق زہد اختیار کیا۔ اس دن سے بشر نے جوتا پہننا چھوڑ دیا ننگے پیر رہتے۔
اسی لئے انہیں حافی یعنی ننگے پیر رہنے والا کہا جاتا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ جوتے کیوں نہیں پہنتے، جواب دیا کہ میں توبہ کے وقت ننگے پیر تھا۔ اب مجھے شرم آتی ہے کہ جوتے پہنوں۔ اس طرح مجھے ہر وقت اپنی توبہ یاد رہتی ہے۔