ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

بادشاہ

datetime 12  جنوری‬‮  2017 |

بادشاہ کی شان میں قصیدے پڑھے جا رہے تھے۔ دربار میں ایک مہمان فلسفی بھی موجود تھا، جو بادشاہوں کی اس انداز کی مدح سرائی سے نا واقف تھا۔ اس نے قصیدے کے خاتمے پر یہ دیکھا کہ بادشاہ نے خوش ہو کے ایک قصیدہ گو شاعر کو بیش بہا انعام و اکرام سے نواز دیا ہے۔
فلسفی نے اس شاعر سے پوچھا۔ ” اے دربار کے قادر الکلام شاعر کیا تیرے ممدوح میں وہ ساری خصوصیات موجود ہیں جن کا تو نے اپنے اشعار میں ذکر کیا ہے؟”
شاعر نے مصلحت اندیشی سے سکوت اختیار کیا۔ فلسفی نے بادشاہ سے پوچھا۔ ” کیا حضور والا ان اوصاف سے متّصف ہیں جن کا شاعر نے اپنے قصیدے میں ذکر کیا ہے؟”
بادشاہ نے جواب دیا۔ ” تم اس دربار میں نووارد ہو۔ یہاں بادشاہوں کی شان میں شعرا اسی قسم کے قصیدے کہتے اور پڑھتے رہتے ہیں!”
فلسفی نے جواب دیا۔ ” بادشاہ! خدا آپ کو سلامت رکھے لیکن میں تو ایک سیدھی سچی بات جانتا ہوں وہ یہ کہ سچ کے ساتھ موت اس زندگی سے بہتر ہے جو جھوٹ کے بل پر قائم ہو!”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…