بحث یہ چھڑی ہوئی تھی کہ قدرو قیمت میں بھائی کا مرتبہ زیادہ ہے یا دوست کا؟ ایک کا خیال تھا بھائی دوست سے زیادہ قیمتی اور اہم ہوتا ہے۔ دوسرا کہتا تھا بھائی تو یْوسف کے بھی تھے۔ جنھوں نے یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں دھکیل دیاتھا اور پھر انھیں بازار مصر میں فروخت کر دیا تھا اس لیے بھائی کے مقابلے میں دوست کا مرتبہ زیادہ ہے۔ جب کافی دیر کے بحث مباحثے کے بعد بھی دونوں کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو انھوں نے نوشیرواں کے وزیر بزر چمہر کو حکم بنایا اور سارا مسئلہ اس کے سامنے رکھ کے پوچھا۔ ” اب ! آپ یہ بتائیں کہ آپ کی نگاہ میں بھائی کی قدر زیادہ ہے یا دوست کی؟”
بزرچمہر نے جواب دیا۔ ” بھائی کی لیکن اس کے ساتھ شرط یہ ہے کہ وہ آپ کا دوست بھی ہو۔”
بحث
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
پی ٹی اے کی صارفین کو مفت بیلنس سیو سروس فعال کرنے کی ہدایت



















































