جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

یہ فالودہ پستہ کے تیل کے ساتھ کھائے گا

datetime 19  ‬‮نومبر‬‮  2016 |

امام یوسفؒ نے اپنی طالب علمی کا زمانہ کس طرح گزارا۔ خود بیان فرمایا ہے وہ فرماتے ہیں:۔
’’میرے والد ابراہیم بن حبیب کی وفات اس وقت ہوئی جب کہ میں والدہ کی گود میں تھا (جب میں بڑا ہوا) تو میری والدہ نے مجھے ایک دھوبی کے سپرد کر دیا۔ میں دھوبی کو چھوڑ کر حلقہ امام ابوحنیفہؒ میں پہنچ جاتا اور ان کی باتیں سنا کرتا تھا۔ میری والدہ آتیں اور میرا ہاتھ پکڑ کر دھوبی کے یہاں لے جاتیں۔

امام ابوحنیفہؒ میری حاضری اور حرص علم دیکھ کر میری طرف کافی توجہ فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ معاملہ دراز ہو گیا۔ اور میری ماں پر گراں گزرا تو انہوں نے امام ابوحنیفہؒ سے کہا کہ اس بچہ کا تمہارے علاوہ اور کوئی استاد نہیں ہے۔ یہ یتیم ہے اس کے پاس کچھ نہیں ہے میں اسے اپنے چرخہ کی کمائی سے کھلاتی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ یہ کچھ کمائے تاکہ اپنی ضروریات پوری کر لے۔امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا کہ:۔اے رعنا! اسے حکم کرو کہ یہ تعلیم حاصل کرے یہ فالودہ پستہ کے تیل کے ساتھ کھائے گا۔امام ابو یوسفؒ کہتے ہیں کہ میری ماں نے امام صاحبؒ سے کہا:۔اے بڈھے! تیری عقل جا چکی ہے (یعنی یہ بات ناممکن ہے)(امام ابو یوسفؒ کہتے ہیں کہ) پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے علم سے نفع دیا یہاں تک کہ مجھے قاضی بنا دیا گیا میری مجلس ہارون الرشید کے ساتھ ہوتی تھی اور اس کی دسترخوان پر اس کے ساتھ کھانا کھاتا تھا۔ ایک دن ہارون الرشید کے پاس فالودہ آیا تو ہارون الرشید نے مجھ سے کہا کہ :۔کھائیے! اس طرح کی چیز ہم لوگوں کیلئے روزانہ نہیں بنتی ہے۔میں نے کہا، کونسا کھانا؟ اس نے کہا کہیہ پستہ کے تیل میں بنا ہوا فالودہ ہے۔اس پر میں ہنس پڑا۔ ہارون الرشید نے مجھ سے پوچھا کیوں ہنسے؟ میں نے کہا خیریت ہی ہے۔ جب ہارون نے اصرار کیا

تو میں نے شروع سے اخیر تک سارا قصہ سنا دیا۔اس پر ہارون متعجب ہوا اور کہنے لگا۔’’علم اٹھتا جا رہا ہے حالانکہ وہ دین اور دنیا دونوں میں نافع ہے‘‘۔امام ابوحنیفہؒ کے لئے دعائے رحمت کی اور کہنے لگا ’’وہ نظر عقل سے دیکھتے تھے اور پھرایسی چیزیں دیکھ جاتے تھے جو اس ظاہری نظر سے نہیں دیکھی جا سکتیں‘‘۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…