جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

یونان کشتی حادثہ کیس، ایف آئی اے نے مزید 6 اسمگلر گرفتار کرلئے

datetime 25  جون‬‮  2023 |

راولپنڈی (این این آئی)ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث مزید 6 ملزمان کو گرفتار کرلیا، جنہوں نے شہریوں کو یورپ کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے بٹورے۔یونان کشتی حادثے کے بعد ایف آئی اے کا انسانی اسمگلروں کے خلاف کریک ڈائون مزید تیز کر دیا گیا

ایف آئی اے نے مزید 6 اسمگلرز کو گرفتار کرلیا ہے، ،ایف آئی اے سرکل راولپنڈی نے یونان کشتی حادثے میں 5 مقدمات درج کر لئے ہیں۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کو کلرسیداں، جھنگ اور پشاورسے گرفتار کیا گیا ہے، ان اسمگلرز نے سادہ لوح شہریوں کو یورپ کا جھانسہ دے کر کروڑوں روپے بٹورے تھے۔ایف آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان میں تنویر، یوسف، جنید، اسلام، حیدر علی اور دران خان شامل ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ انسانی اسمگلر شہریوں کو پاکستان سے لیبیا اور لیبیا سے یونان بذریعہ کشتی بھجوانے میں ملوث ہیں، اور ملزمان کی جانب سے بھجوائے گئے بیشتر متاثرین کشتی حادثے میں جاں بحق ہوئے۔ایف آئی اے ترجمان کے مطابق ملزمان کے خلاف کارروائی متاثرین کے لواحقین کی نشاندہی پر کی گئی، ملزمان کی گرفتاری کے لئے تمام وسائل کوبروئے کارلائے جائیں گے، اور گرفتار ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…