جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

300پاکستانی بیروزگاری سے بچنے کیلئے یونان کے سمندر میں شہید ہوگئے’شیخ رشید

datetime 20  جون‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ و سابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ہم اپنے 300 پاکستانیوں کا سوگ منا رہے ہیں، لوگ بیروزگاری اور معاشی قتل عام سے بچنے کے لئے یونان کے سمندر میں شہید ہوگئے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے

جب 20کلو آٹے کا تھیلا 3000روپے کا ہوگا تو لوگ زہر کا گھونٹ پینے پر مجبور ہوں گے، معاشی، اقتصادی اور سیاسی تباہی، کارخانے بند، کاروبار بند، کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس اندھیرے سے کس طرح نکلنا ہے۔انہوں نے کہا کہ 9مئی کے واقعہ کی ساری قوم نے مذمت کی ہے، خدا کیلئے اس قوم کو زندہ رہنے کا حق دو، لوگوں کے گھروں میں ایک وقت کا کھانا ہے، قومیں عوام سے ہوتی ہیں، قومیں جوش، جذبے، ولولے سے زندہ رہتی ہیں، اس قوم کو جذبہ اور امید دیں نا امیدی نہ دیں، پاکستان قیامت تک زندہ رہے گا۔سربراہ عوامی لیگ کا کہنا تھا کہ بجٹ میں سب جھوٹ بولا گیا ہے، اسحاق ڈار، نوازشریف اور شہبازشریف کے بیانات نہیں مل رہے، نوازشریف آپ آ جائیں آپ کو پتہ لگے گا کہ لوگ کس حالت میں پہنچ چکے ہیں، آنے میں دیر نہ کریں، میری اداروں سے درخواست ہے کہ اس پاکستان کو اندھیروں سے نکالیں، اس پاکستان کو اجالے میں لے کر جائیں، امید دلائیں۔سابق وزیر نے مزید کہا کہ نوجوان ڈپریشن اور دبائو کا شکار ہو چکا ہے، گھروں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے، آئیں سب مل کر پاکستان کو آگے لے کر چلیں، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان ہماری پہچان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…