ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جانب سے پارلیمنٹ آمد کیلئے چیف جسٹس سے اجازت اور مشاورت نہ کیے جانے کا انکشاف

datetime 11  اپریل‬‮  2023 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جانب سے پارلیمنٹ آمد کیلئے چیف جسٹس سے مشاورت نہ کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کیلئے سپریم کورٹ کے دیگر ججز کو بھی

مدعو کیا گیا، تاہم جسٹس عیسٰی کے علاوہ کسی اور جج نے پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ نہ کیاجبکہ جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی جانب سے پارلیمنٹ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کیلئے چیف جسٹس سے نہ ہی اجازت طلب کی گئی اور نہ ہی مشاورت کی گئی۔اس حوالے سے سینئر قانون دان اور سابق سینیٹر اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ جسٹس عیسٰی کو پارلیمنٹ میں منعقدہ تقریب میں شرکت کیلئے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے مشاورت کرنی چاہیئے تھی، اجازت لینی چاہیئے تھی۔ نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی پارلیمنٹ آمد پر تحفظات کا اظہار کیا۔ سینئر قانون دان نے کہا کہ جب انہوں نے جسٹس قاضی فائز عیسٰی کو پارلیمنٹ میں دیکھا تو انہیں اس منظر پر یقین ہی نہیں آیا۔ جسٹس فائز اگر بغیر مشاورت کے پارلیمنٹ گئے تو اس سے غلط پیغام جائے گا، حکومت تاثر دینا چاہتی ہے جسٹس فائز ان کیساتھ ہیں، حکومت چیف جسٹس سے زیادہ جسٹس فائز کے پیروں میں زنجیریں باندھنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…