ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کے باوجود گردشی قرض 2کھرب600ارب ہونا تشویشناک قرار

datetime 10  اپریل‬‮  2023 |

لاہور ( این این آئی) فائونڈر گروپ کے سرگرم رکن پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بور ڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن خادم حسین نے پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 2 کھرب 600ارب روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ رواں مالی سال کے دوران گردشی قرضہ

میں600ارب روپے اضافہ ہوا۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے فیروز پور بورڈ کے تاجروں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوںنے کہا کہ بڑھتے ہوئے گردشی قرضے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کا باعث اورملکی معیشت پر بوجھ ہیںیہی وجہ ہی کہ بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ ہوشربا اضافے ہورہے ہیں ،جب حکومت عوام اور صنعتی شعبہ سے بجلی بلوں میں ہر ماہ بجلی کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے اربوں روپے ٹیکس وصول کررہی اس رقم کو گردشی قرضوں کی ادائیگی میں استعمال کیوں نہیں کررہی اور یہ رقم کہاں جارہی ہے؟ ۔فائونڈر گروپ کے رہنما میاں محمد اشرف نے کہا کہ رواں مالی سال میںپاور سیکٹرکا گردشی قرضہ419ارب بڑھ گیا،،بجلی کی لاگت میں اضافہ کیے بغیر گردشی قرضوں کا مسئلہ حل کیا جائے۔خادم حسین نے کہا کہ حکومت بجلی کی لاگت میں اضافہ کیے بغیر گردشی قرضوں کا مسئلہ حل کرے اورعوام اور صنعتی شعبہ سے بجلی بلوں اور ٹیکسوں میں وصول شدہ رقم کو گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے استعمال میں لائے، نیزمہنگائی کو کنٹرول کرنے کیلئے صنعتی شعبہ کی پیداواری لاگت میں کمی لائے اور بجلی ،گیس کی قیمتوں میں اضافوں کی بجائے ان میں کمی کرے تاکہ پیداواری لاگت میں کمی سے اشیاء سستی اور مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام کو ریلیف مل سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…