ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

جسٹس فائز کا رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط عہدے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ

datetime 3  اپریل‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی کو خط لکھا ہے اور انہیں فوری طور پر عہدے سے دستبردار ہونے کا کہا ہے۔عدالتی حکم نامہ کی تنسیخ کا سرکلر جاری کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے

رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے خط میں کہا کہ بطور رجسٹرار سپریم کورٹ کورٹ آپ کے پاس عدالتی حکم کے خلاف سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا، چیف جسٹس سپریم کورٹ انتظامی نوعیت کے احکامات جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بطور رجسٹرار سپریم کورٹ آئین و قانون کے خلاف جاری سرکلر فوری واپس لیا جائے، انہوں نے لکھا کہ آئین وقانون کی خلاف ورزی پر آپ فوری طور پر رجسٹرار سپریم کورٹ کا عہدہ چھوڑ دیں، آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ رجسٹرار آفس میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں تحریر کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اپنے افسر کو فوری واپس بلائے اور مناسب سمجھے تو رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف آئین کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو تحریرکردہ خط کی کاپی چیف جسٹس پاکستان، سیکریٹری کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو ارسال کردی۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر اضافی نمبر دینے سے متعلق جسٹس قاضی عیسیٰ کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ کا فیصلہ جاری کیا تھا جس میں عدالت عظمیٰ نے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری (ازخود نوٹس) کے تمام کیسز ملتوی کرنے کی تجویز دے دی تھی۔

عدالت عظمیٰ کا فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا،جسٹس شاہد وحید نے دو ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جسٹس امین الدین کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ سینیئر جج جسٹس فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے اجرا کے اگلے روز ہی سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی جانب سے ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا

جس میں کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے فیصلے میں آرٹیکل 184 (3) سے متعلق آبزرویشن ازخود نوٹس کے زمرے میں نہیں آتی۔سرکلر میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کا چیف جسٹس کے از خود نوٹس اور بینچ کی تشکیل کے

اختیارات سے متعلق فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ صحافیوں سے متعلق 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے منافی ہے۔سرکلر میں کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے جو فیصلہ دیا وہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ہے جبکہ سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ پہلے ہی اس معاملے کو طے کر چکا ہے کہ ازخود نوٹس کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…