جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

امریکا: سزائے موت کی قیدی خاتون دو بار زہر کا انجیکشن لگائے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی

datetime 2  اکتوبر‬‮  2026 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی ریاست ٹینیسی میں تین دہائیوں قبل اپنی ہم جماعت کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی قیدی سزا پر عملدرآمد کے دوران زہر کا انجیکشن لگائے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی۔

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق کرسٹا پائیک نامی سزائے موت کی قیدی کو بدھ کی رات زہر کا انجکشن دے کر موت کے گھاٹ اتارنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ جیل حکام کے مطابق پائیک اس عمل کے دوران زندہ بچ گئیں جس سے ریاست کی جانب سے دو صدیوں میں کسی خاتون کو سزائے موت دینے کی پہلی کوشش ناکام ہو گئی ہے۔خبررساں ایجنسی کے مطابق اس تکلیف دہ عمل کے بعد پائیک کی حالت کے بارے میں فوری طور پر کچھ معلوم نہیں ہو سکا اور یہ بھی واضح نہیں ہے کہ نیش وِل کے ”ریوربینڈ میکسیمم سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن”سے طبی امداد کے لیے لے جائے جانے کے بعد ان کے وکلا یا ریاست آگے کیا قانونی راستہ اختیار کریں گے۔ واضح رہے کہ کرسٹا پائیک کے وکلا اور انسانی حقوق کے ماہرین اس سزا کی مخالفت کر رہے تھے، جس کی وجہ جرم کے وقت ان کی کم عمری، بچپن میں جنسی زیادتی کا شکار ہونا اور دماغی امراض کا علاج نہ ہونا تھا۔

حکام نے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے سزائے موت پر عملدرآمد کے دوران اٹارنی جنرل کے دفتر سے منظور شدہ سزائے موت کے قانونی پروٹوکول کے ہر قدم کی مکمل پیروی کی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا، پروٹوکول میں شامل زہر کا انجکشن ہمیشہ مثر رہا ہے اور یہ پروٹوکول آج رات کیے گئے طریقہ کار کے علاوہ کسی اضافی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ٹینیسی کے گورنر بل لی، جنہوں نے پیر کو کرسٹا پائیک کی رحم کی اپیل مسترد کر دی تھی، نے اس ناکام کارروائی کے بعد رواں سال ہونے والی تمام سزائے موت پر پابندی لگا دی ہے۔یہ ناکام کارروائی امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے نچلی عدالت کے اس حکم امتناع کو ختم کرنے کے چند گھنٹے بعد کی گئی تھی جس میں آخری لمحات میں سزائے موت کو روک دیا گیا تھا۔

ٹینیسی میں 200 سال سے زائد عرصے میں سزائے موت کا سامنا کرنے والی پہلی خاتون ہونے کے علاوہ کرسٹا پائیک امریکی سزائے موت کی جدید تاریخ میں واحد قیدی بننے والی تھیں جنہیں نوعمری میں کیے گئے جرم پر ٹینیسی میں موت کی سزا دی جانی تھی۔ خیال رہے کہ رواں سال ٹینیسی میں سزائے موت دیے جانے کی یہ دوسری ناکام کوشش ہے۔ اس سے قبل مئی میں بھی جیل حکام ایک قیدی کو مناسب رگ نہ ملنے کے باعث زہر کا انجکشن لگانے میں ناکام رہے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…