اسلام آباد (نیوز ڈیسک)لاہور میں غیرملکی لڑکی ڈیانا سے مبینہ زیادتی کے مقدمے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے،
گرفتار ملزمہ مسکان کے بیان کی روشنی میں پولیس نے مزید شواہد اکٹھے کرنے کا عمل تیز کردیا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق گرفتار مسکان نے دورانِ تفتیش بتایا کہ جب ڈیانا مبینہ طور پر محسن کے ہمراہ کمرے میں گئی تو دیگر دوستوں کی جانب سے 45 ہزار روپے دیے گئے تھے۔ مسکان کے مطابق ڈیانا کے کمرے سے باہر آنے تک دیگر دونوں افراد وہاں سے جاچکے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں ملزمان نے مسکان اور نمرہ سے رابطہ کرکے دعویٰ کیا کہ ڈیانا کی جانب سے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ معاملہ بگڑنے کے بعد دونوں لڑکیوں نے ڈیانا اور تینوں ملزمان سے رابطہ ختم کردیا۔پولیس کے مطابق مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں متاثرہ لڑکی اور گرفتار ملزمان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں۔
دونوں گرفتار لڑکوں کو بھی نمونے دینے کے لیے فرانزک لیبارٹری منتقل کیا گیا۔حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان سے لیے گئے سیمپلز کو متاثرہ لڑکی کے نمونوں کے ساتھ فرانزک تجزیے کے لیے ملایا جائے گا تاکہ شواہد کی بنیاد پر معاملے کی مزید وضاحت ہوسکے۔تفتیشی ٹیم نے رائیونڈ روڈ پر واقع نجی سوسائٹی کے فلیٹ، جسے مبینہ طور پر جائے وقوع قرار دیا جارہا ہے، سے بھی مختلف شواہد اکٹھے کیے ہیں۔ فرانزک ٹیم نے وہاں سے فنگر پرنٹس اور استعمال شدہ برتنوں کے نمونے بھی حاصل کیے۔پولیس کے مطابق ملزمان کے زیر استعمال گاڑی سے بھی فرانزک سیمپلز لیے گئے ہیں، جبکہ جائے وقوع سے دستیاب ڈیجیٹل شواہد محفوظ کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کی کوشش جاری ہے۔حکام کے مطابق واقعے میں اجتماعی زیادتی کے الزام کی تصدیق یا تردید فرانزک شواہد اور رپورٹ کی بنیاد پر ہوگی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیس سے متعلق حقائق سامنے لائے جائیں گے۔



















































