جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

خاتون جج کو دھمکی کا کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ معطل

datetime 14  مارچ‬‮  2023
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد ( آن لائن )اسلام آباد کی عدالت کے جج نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وارنٹِ گرفتاری 16 مارچ تک معطل کر دیے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں عمران خان کے وکلاء پیش ہوئے۔عمران خان کے وکیل نے عدالت میں مو قف اپنایا کہ عمران خان پر لگائی گئی

تمام دفعات قابلِ ضمانت ہیں۔جج نے سوال کیا کہ اس سے پہلے کیا قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری ہوئے تھے؟عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ اس سے پہلے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں قابلِ ضمانت وارنٹِ گرفتاری جاری نہیں ہوئے۔عدالت نے عمران خان کے وکلاء کو دستاویزات ٹھیک کر کے دینے کی ہدایت کر دی اور کہا کہ 15 منٹ سے پڑھ رہا ہوں مجھے آپ کی طرف سے دی گئی دستاویزات سمجھ نہیں آ رہیں۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان سابق وزیرِ اعظم ہیں، انہیں سیکیورٹی مہیا کرنا حکومت کی ذمے داری ہے، حکومت نے عمران خان سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔جج نے سوال کیا کہ کوئی ایسا خط ہے آپ کے پاس جس میں لکھا ہو کہ عمران خان کی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے؟عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ میں آپ کو مہیا کر دیتا ہوں۔جج نے کہا کہ آپ کل تک مہیا کر دیں۔سرکاری وکیل نے کہا کہ عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں طلب کر رکھا تھا۔

جج نے کہا کہ عمران خان کی الیکشن مہم تو شروع ہے۔عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کہ عمران خان جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوئے۔جس پر ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدرگیلانی نے سوالات کیے کہ عمران خان جوڈیشل کمپلیکس میں پیش ہوئے لیکن کچہری میں تو پیش نہیں ہوئے ناں؟

کچہری میں 2014ء میں حملہ ہوا، کیا اس کے بعد کچہری شفٹ ہوئی؟ عمران خان کی حکومت تھی لیکن پھر بھی کچہری شفٹ نہیں ہوئی، آپ نے اپنے دورِ حکومت میں کچہری کو شفٹ نہیں کروایا۔’’باتیں تو بہت ہوتی ہیں، PTI کا ایک لیگل ریفارم بتا دیں؟ جج نے ریمارکس میں کہا کہ تحریکِ انصاف نام تو ہے لیکن کیا کیا ہے؟ باتیں تو بہت ہوتی ہیں، تحریکِ انصاف کا کوئی ایک لیگل ریفارم بتا دیں؟

جج نے کہا کہ کچہری میں عمران خان پہلے بھی آ چکے ہیں، دوبارہ بھی آ سکتے ہیں، انہیں کیس کی نقول فراہم کرنی تھیں، اس لیے عدالت نے بلایا تھا، ذاتی حیثیت میں ملزم کو کیس کی نقول فراہم کی جاتی ہیں، کسی اور کو نہیں کی جاتیں۔سرکاری وکیل نے کہا کہ دفعات قابلِ ضمانت ہیں یا نہیں، اس کا وارنٹِ گرفتاری سے تعلق نہیں۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ عمران خان سے سکیورٹی واپس لے لی گئی ہے۔

یہی میرا کیس ہے۔جج نے کہا کہ سکیورٹی تو واپس لے لی گئی لیکن کوئی خط تو دے دیں عدالت کو۔عمران خان کے وکیل نے کہا کہ پنجاب حکومت نے جو سیکیورٹی واپس کی اس کا خط عدالت میں جمع کروا دیتا ہوں۔عدالت نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے کیس میں عمران خان کے وارنٹِ گرفتاری 16 مارچ تک معطل کر دیئے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…