پیر‬‮ ، 20 اپریل‬‮ 2026 

جنرل باجوہ 2018 کا الیکشن مینیج کر رہے تھے، الیکشن کی رات ان سے کیا بات ہوئی؟ خواجہ آصف نے پردہ اٹھا دیا

datetime 22  فروری‬‮  2023 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ میرا خیال ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں مل کر اس الیکشن میں حصہ نہیں لیں گی خواہش ہے کہ پوری پی ڈی ایم ایک ہو کر انتخابات میں حصہ لے، تحریک انصاف کو شوکت خانم ہسپتال کو سیاست کا حصہ نہیں بنانا چاہیے،آج کل لوگ گرفتار ہونے پر بہت ہوتے ہیں، میں کسی سیاسی لیڈر کو نااہل کروانے کا نہ ہی گرفتار

کروانے کا قائل ہوں،میرے لئے سیاست کوئی ذاتی دشمنی کا باعث نہیں بنتی، یہ بات بھی حقائق پر مبنی ہے کہ سیاسی انتقام اور جھوٹے جعلی کیسز ہماری سیاست کا ناسور بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا 3مہینے پہلے جو مقبولیت کا گراف تھا وہ اب نہیں رہا، آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ پچھلی حکومت نے کیا وہ ہمیں شائع کرنا چاہیے،باجوہ صاحب سے ذاتی تعلقات ہیں،انہوں نے الیکشن میں میری کوئی مدد نہیں کی،ان سے جو بات ہوئی ٹی وی پروگرام میں بتا دی تھی۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ عمران خان کا پورا کیریئر دیکھ لیں، بیانیہ اور سیاسی سوچ نظر آئے گی، عمران خان نے ہمارے ساتھ عدلیہ بحالی مہم میں استعفیٰ بھی دیا، عمران خان کاہماری سوچ سے علیحدہ ہونا فطری بات تھی،2008میں ہمارا مشترکہ اپوزیشن کا ایجنڈا نہیں تھا، عمران خان کی سیاست صرف ان کی ذات کے گرد نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پی ڈی ایم کی جماعتیں مل کر اس الیکشن میں حصہ نہیں لیں گی ۔

خواہش ہے کہ پوری پی ڈی ایم ایک ہو کر انتخابات میں حصہ لے۔ انہوں نے کہا کہ 2013کے الیکشن میں عمران خان نے پنڈی کا سہارا لینا شروع کردیا تھا۔ خواجہ آصف نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال کو سیاست کا حصہ نہیں بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ باجوہ صاحب سے ذاتی تعلقات ہیں، ان کا احترام کرتا ہوں،جنرل باجوہ 2018کے الیکشن کو مینج کر رہے تھے۔

انہوں نے الیکشن میں میری کوئی مدد نہیں کی،میری جنرل باجوہ سے جو بھی بات ہوئی وہ میں نے خود ٹی وی پروگرام میں بتائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج کل لوگ گرفتار ہونے پر بہت ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف نے کہا کہ میں کسی سیاسی لیڈر کو نااہل کروانے کا نہ ہی گرفتار کروانے کا قائل ہوں،میرے لئے سیاست کوئی ذاتی دشمنی کا باعث نہیں بنتی۔

لیکن اگر ایسی کوئی چیزیں قوانین کے مطابق ہوتی ہیں تو وہ ٹھیک ہے لیکن یہ بات بھی حقائق پر مبنی ہے کہ سیاسی انتقام اور جھوٹے جعلی کیسز ہماری سیاست کا ناسور بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا 3مہینے پہلے جو مقبولیت کا گراف تھا وہ اب نہیں رہا، آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ پچھلی حکومت نے کیا وہ ہمیں شائع کرنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…