بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

مناسب پالیسیوں سے پاکستان 2075 تک دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن جائیگا‘ تحقیقی مقالے میں پیشگوئی

datetime 1  فروری‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی)گولڈمین سیکس کی طرف سے شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ مناسب پالیسیوں سے پاکستان 2075 تک دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن جائے گا۔ماہر معاشیات کیون ڈیلی اور ٹاڈاس گیڈمیناس کی تصنیف اور ’’2075 کا راستہ ‘‘کے عنوان سے اس مقالے میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2075 تک پانچ بڑی معیشتیں چین، بھارت ، امریکہ، انڈونیشیا ء

اور نائیجیریا ہوں گی۔گولڈمین سیکس اب تقریباً دو دہائیوں سے ممالک کی طویل مدتی ترقی کا تخمینہ لگا رہا ہے، ابتدائی طور پر یہ بریکس کی معیشتوں سے شروع ہوا لیکن گزشتہ10 سالوں سے انہوں نے ان تخمینوں کو بڑھا کر 70 ابھرتی ہوئی اور ترقی یافتہ معیشتوں کا احاطہ کیا ہے۔تازہ ترین مقالہ 104 ممالک پر محیط ہے جس کے تخمینے 2075 تک ہیں۔گولڈمین سیکس کے مطابق پاکستان کے مستقبل کے ستارے کی حیثیت کا اندازہ اس کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے لگایا جاتا ہے جو مصر اور نائیجیریا کے ساتھ مل کر اسے اگلے 50 سالوں میں دنیا کی سب سے بڑی معیشتوں میں شامل کر سکتا ہے۔اس وقت تک کی تحقیق کے مطابق پاکستان کی حقیقی جی ڈی پی بڑھ کر 12.7 ٹریلین ڈالر اور اس کی فی کس جی ڈی پی 27,100 ڈالر ہو جائے گی۔تاہم یہ تعداد چین، بھارت اور امریکہ کے حجم کے ایک تہائی سے بھی کم ہونے کا امکان ہے۔ 2075 میں بھارت کی حقیقی جی ڈی پی 52.5 ٹریلین ڈالر اور فی کس جی ڈی پی 31,300 ڈالرمتوقع ہے۔اپنے تخمینوں کے لیے اہم خطرات میں سے ماہرین اقتصادیات نے ماحولیاتی تباہی اور عوامی قوم پرستی کو نمایاںکیا ہے۔مقالے میں کہا گیاہے کہ جب تک عالمی سطح پر مربوط ردعمل کے ذریعے پائیدار ترقی کے راستے کو یقینی نہیں بنایا جاتا، موسمیاتی تبدیلی ان تخمینوں کو بہت زیادہ متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک کے لیے جن کے جغرافیے خاص طور پر کمزور ہیں جبکہ بہت سے ممالک میں مقبول قوم پرستوں کے اقتدار میں آنے سے

تحفظ پسندی میں اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر عالمگیریت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے، اس طرح تمام ممالک میں آمدنی میں عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔مقالے میں کہا گیا ہے کہ عالمی نمو گزشتہ 10 سالوں میں اوسطاً 3.6 فیصد سالانہ سے کم ہو کر 3.2 فیصد ہو گئی ہے اور سست روی نسبتاًوسیع البنیاد رہی ہے۔اندازہ ہے کہ2024 اور 2029 کے درمیان عالمی نمو اوسطاً2.8 فیصد رہے گی

اور یہ بتدریج زوال پذیر ہو گی۔جبکہ عالمی نمو کم ہو رہی ہے، ابھرتی ہوئی معیشتیں ترقی یافتہ منڈیوں کے مقابلے میں تیزی سے ترقی کر رہی ہیں اور ان کے ساتھ ملنا جاری رکھیں گی۔مقالے میںکہا گیا ہے کہ عالمی جی ڈی پی کا وزن اگلے 30 سالوں میں ایشیا ء کی طرف اور بھی زیادہ منتقل ہو جائے گا

کیونکہ چین، امریکہ، بھارت ، انڈونیشیا ء اور جرمنی کوجب ڈالر میں ماپا جائے تو سب سے بڑی معیشتوں کے لیگ ٹیبل میں سرفہرست ہیں جبکہ نائیجیریا، پاکستان اور مصر بھی بڑے ممالک میں شامل ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…