پیر‬‮ ، 05 جنوری‬‮ 2026 

وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں اسحاق ڈار کے حوالے کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا

datetime 24  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /این این آئی) حکمران اتحاد نے وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں اسحاق ڈار کے حوالے کرنے اور اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرلیا۔تفصیلات کے مطابق ملک میں جاری سیاسی بحران پر حکمران اتحاد کی قیادت نے سر جوڑ لئے۔نجی ٹی وی اے آروائی کے مطابق اس حوالے سے

سابق صدر آصف زرداری، مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ فضل الرحمان کے مسلسل رابطے جاری ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کی جانب سے موجودہ بے یقینی کی صورتحال کے خاتمے کیلئے اہم پیشرفت سامنے آئی۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ کی ذمہ داریاں اسحاق ڈارکےحوالےکرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ حکمران اتحاد مزید مشکل حکومتی اور سیاسی فیصلے کرنے پر غور کررہی ہے۔ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد نے اپوزیشن کو ٹف ٹائم دینے کا بھی فیصلہ کرلیا ، وزیراعظم شہبازشریف وطن واپسی پر دیگر اتحادیوں کو اعتماد میں لیں گے۔وزیراعظم وطن واپسی سےقبل میاں نوازشریف سےملاقات کریں گے، اسحاق ڈار نے شہباز شریف سے ملاقات کے بعد پاکستان واپسی کی حتمی تاریخ کا فیصلہ کیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان واپسی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان جاکر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھائوں گا۔ ایک انٹرویومیں اسحق ڈار نے کہاکہ وطن واپسی پر سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھائوں گا اور ممکنہ طور پر اگلے ہفتے کے اختتام پر پاکستان میں ہوں گا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف جو بھی ڈیوٹی لگائیں گے ماضی کی طرح نبھائوں گا۔انہوںنے کہاکہ شہباز شریف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر کامیاب دورے کے بعد (آج)ہفتہ کو لندن آئیں گے اور شہباز و نواز سے مشورہ کرکے جو بھی فیصلہ ہوگا اس پر عمل کروں گا۔اسحاق ڈار نے کہاکہ عدالت نے ہماری درخواست منظور کی اور وارنٹ معطل کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر تک واپسی کرلیں۔خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دائمی وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے اور وطن واپسی پر ان کی گرفتاری سے روک دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…