جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

سیاسی انتشار سے بڑھتے کرنسی بحران نے انڈسٹری کو لپیٹ میں لے لیا

datetime 28  جولائی  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک) سیاسی انتشار اور عدم استحکام سے بڑھتے کرنسی بحران نے ملک کی انڈسٹری کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ، کسٹمز ٹیرف چیپٹر 84اور 85کی درآمدات پر پابندی سےملک کی انڈسٹری شدید مشکلات کا سامنا ہے، صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشینری اورمشینوں کے پرزہ جات نہیں آئیں گے تو انڈسٹری کا بتدریج

بند ہونا لازم ہے ، کچھ سیکٹرز نے تو پروڈکشن کم بھی کر دی ہے۔روزنامہ جنگ میں سہیل افضل کی شائع خبر کے مطابق ملک میں ڈالر کی قلت کے مسئلے پر قابو پانے کے لئے اسٹیٹ بینک کے فارن ایکس چینج ڈیپارٹمنٹ ( ایف ای او ڈی ) نے اپنے ایک سرکلر کے ذریعےکسٹمز ٹیرف چیپٹر84اور 85کی درآمدات کے لئے ادائیگی اپنی منظوری سے مشروط کر دی ہے ،ایف ای او ڈی کی اس شرط کے بعد کمرشل بینک درآمد کنندگان کو ڈالر دینے سے گریزاں ہیں، بہت معمولی اور کم مالیت کی کنسائمنٹ کےلئے تو اجازت مل رہی ہے لیکن5ہزار ڈالر سے زیادہ کی کنسائمنٹ پر اسٹیٹ بینک ڈالر کی منظوری نہیں دے رہا، 5جولائی کے جاری کر دہ اس سرکلر سے ہر قسم کی پلانٹ اور مشینری ،کیپٹل گڈز اور خام مال وغیرہ کی درآمد بند ہو چکی ہے مختلف پورٹس پر 2ہزار کے قریب کنسائمنٹ پھنس گئی ہیں جبکہ اتنی ہی مقدار میں راستے میں ہیں ،اس سے قبل حکومت نے لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی تھی جس سے ایک ہزار کے قریب کنسائمنٹ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک پورٹ پر پھنسے رہے اور درآمد کند گان کو لاکھوں ڈالر کا ڈیمرج شپنگ کمپنیوں کا ادا کرنا پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے ان لگژری اشیاء کی کنسائمنٹ کی کلیئرنس کا فیصلہ کرنے کے بعد شپنگ کمپنیوں کو ڈیمرج میں رعایت دینے کا کہا لیکن شپنگ کمپنیوں نے 23؍ جو لائی کو کسٹمز کی جانب سے لکھے گئے خط کا 27؍ جولائی کی شام تک کو ئی جواب نہیں دیا۔

صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ انڈسٹری کو چلانے کے لئے سپلائی چین ہو تی ہے ،بڑی صنعتوںکو خام مال کی مسلسل ضرورت ہوتی ہے اسی طرح چیپٹر 84اور 85کے تحت مشینوں کے معمولی پرزہ جات بھی شامل ہیں ،اس فیصلے کے سب سے زیادہ منفی اثرات، آٹو انڈسٹری، موبائل فون فیکچرز اور بڑی صنعتوں پر پڑے ہیں۔

سب سے زیادہ پریشان وہ صنعت کار ہیں جن کے کنسائمنٹ پورٹ پر پہنچ چکے ہیں اور ان کو بیرون ملک سے سامان بھیجنے والے رقم کا تقاضا کر رہے ہیں لیکن وہ انھیں رقم موجود ہونے کے باوجود بھیج نہیں سکتے ،کیش انگیسٹ ڈاکومنٹ (سی اے ڈی) کےتحت مال منگوانے والے صنعت کاروں کا موقف ہے کہ بروقت ادائیگی نہ ہونے سے ان کےکلائنٹ ناراض ہو رہے ہیں اور وہ ملک کے مفاد میں انھیں یہ بھی بتانے سے گریزاں ہیں کہ انھیں ڈالر نہیں مل رہے۔

تاہم اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ مستقبل میں انھیں مال نہیں دیں گے۔ صنعت کا روں کا کہنا ہے کہ انھیں ناکردہ گناہوں کی سزا مل رہی ہے ، ہمارے درآمدی آئٹم ممنوعہ آئٹم نہیں ہیں ، یہ انڈسٹری کے آئٹم ہیں ، اس حکومتی فیصلے سےہمیں بھاری ڈیمرج ادا کرنا پڑے گا ،دیوالیہ ہم ہو نگے ، حکومت ہماری انڈسٹری بند کرنا چاہتی ہے ۔

ذرائع کے مطابق ایف پی سی سی آئی ، پاکستان بزنس کونسل،صنعت کاروں کی نمائندہ تنظیموں نے اس سلسلے میں اہم حکومتی شخصیات سے رابطہ کر کے مسئلے کی سنگینی سے آگا ہ کیا ہے ،لیکن مسئلہ تاحال التواء کا شکار ہے ، رابطہ کرنے پر وزارت خزانہ کے ایک افسر نے کہا کہ وہ اس مسئلے سے آگاہ ہیں اس سے بڑھتے مسائل کا بھی انھیں علم ہے لیکن ڈالر پر دباؤ روکنے کے لئے درآمدات پر عائد یہ پابندی اگست کے تیسرے ہفتےتک بر قرار رہے گی ،آئی ایم ایف سے قسط ملے گی تو یہ پابندی فوری ختم کر دی جائے گی ،اس سلسلے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…