منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

عدالت نے مزارات پر جوتیوں اور بیت الخلا کے پیسے وصول کرنا غیر قانونی قراردے دیا

datetime 17  جون‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی) عدالت نے محکمہ اوقاف کو حکم دیا ہے کہ مزارات پر آنے والے زائرین سے جوتیوں، پارکنگ اور بیت الخلاکے استعمال پر کوئی پیسہ وصول نہیں کیا جائے گا اور عوام کو تمام سہولیات مفت فراہم کی جائیں۔پنجاب بھر کے مزارات پر جوتیوں کی حفاظت اور بیت الخلا کے استعمال پر پیسے وصول کرنے کے خلاف

درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس میں کہا کہ محکمہ اوقاف درباروں پر اپنی سروسز دینے کو لیز کرتا ہے، ایسا کرنے کے لیے قانون کے مطابق اخبارات میں اشتہار دیا جانا ضروری ہے، اوقاف والے غیر قانونی طور پر بیت الخلا اور دیگر جگہوں پر اپنے بندے بٹھا دیتے ہیں، نمازیوں سے بھی پاپوش رکھنے کے عوض پیسے لیتے ہیں، اگر اوقاف عوام کو اپنی سروسز نہیں دے سکتا تو اس محکمہ کو ختم کردیں، آپ جوتوں سے لے کر موبائل رکھنے پر بھی چارجز لیتے ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے درباروں پر جوتیوں، پارکنگ اور واش روم کے استعمال پر پیسے وصول کرنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ محکمہ اوقاف والے اپنے ملازمین کی ڈیوٹیاں لگائیں گے، اور عوام سے کوئی پیسہ وصول نہیں کریں گے، عدالت نے زائرین کو تمام سہولیات مفت فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے حکم دیا کہ 15 روز کے بعد عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد رپورٹ لے کر پیش ہوں۔ عدالت نے محکمہ اوقاف کو حکم دیا ہے کہ مزارات پر آنے والے زائرین سے جوتیوں، پارکنگ اور بیت الخلاکے استعمال پر کوئی پیسہ وصول نہیں کیا جائے گا اور عوام کو تمام سہولیات مفت فراہم کی جائیں۔پنجاب بھر کے مزارات پر جوتیوں کی حفاظت اور بیت الخلا کے

استعمال پر پیسے وصول کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس میں کہا کہ محکمہ اوقاف درباروں پر اپنی سروسز دینے کو لیز کرتا ہے، ایسا کرنے کے لیے قانون کے مطابق اخبارات میں اشتہار دیا جانا ضروری ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…