پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

جوڈیشل کمیشن کے بڑے فیصلے کارکردگی کی بنا پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ایڈیشنل ججز فارغ

datetime 27  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے3 ایڈہاک ججز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد انہیں مزیدتوسیع نہیں دی جا سکی، دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس امیر بھٹی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقرر کرنے

پر غور کے لئے 10جون کو جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے ،روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد کی زیر صدارت کمیشن کا اجلاس ہوا جس میں جسٹس فیاض انجم جندران، جسٹس غلام اعظم قمبرانی اور جسٹس لبنی سلیم پرویز کی کارکردگی کی بنا پر انہیں مزید توسیع دینے یا مستقل کرنے پر غور کیا ،تاہم بعد ازاں انہیں مزیدتوسیع نہیں دی جا سکی،یا درہے کہ ان تینوں ججوں کو جوڈیشل کمیشن نے گزشتہ سال نومبر میں چھ ماہ کی توسیع کی سفارش کی تھی جو رواں ماہ ختم ہو رہی ہے،تاہم اب توسیع نہ ملنے پر یہ خو بخود ہی اپنے عہدوں سے فارغ ہو جائیں گے،دوسری جانب چیف جسٹس گلزار احمد نے لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان کی 5جولائی کو ریٹائرمنٹ کے بعد سینئر ترین جج جسٹس امیر بھٹی کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مقرر کرنے پر غور کے لئے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرلیا ہے ، اجلاس میں غور کے بعد جسٹس امیر بھٹی کوچیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ بنانے کی سفارش کی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…