اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر رضا ربانی نے وزیر اعظم کی جانب سے کشمیر میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیٹی میں کوئی منتخب نمائندہ شامل نہیں، پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہاکہ میں بڑے عرصہ سے پارلیمنٹ کا ممبر ہوں لیکن افسوس ہے کہ اداروں نے پارلیمان کو بڑے ایشوز پر انفارم تک نہیں کیا۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ کی سٹیٹمنٹ اور
دورہ کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ پالیسیاں بنانے والے اداروں کے لوگ ریٹائرڈ ہوکر ملک سے باہر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے اس معاملے پر کمیٹی بنائی،کمیٹی میں صرف ایک ہی الیکٹڈ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہیں،ہم اس کمیٹی کو تسلیم نہیں کرتے، کمیٹی پارلیمان پر مشتمل ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہماری قومی سلامتی کمیٹی کہ رہی ہے کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ بھارت ایسا کرے گاجبکہ باہر کے اخباروں میں یہ چھپ رہا تھا کہ بھارت کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کیا امریکہ کے دورہ میں وزیراعظم کو اشارہ بھی نہیں دیا گیا،کیا ہم اسرائیل میں دارالحکومت کی تبدیلی میں ٹرمپ کا کردار بھول گئے ہیں،یاد رکھیں کشمیریوں کو تشدد کرکے مقبوضہ کشمیر سے باہر کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں کشمیری پناہ گزینوں کی تعداد بڑھ جائیگا۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پریشر میں آجائیگا، ہم مزید مشکل میں پھنس جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں نیشنل سیکورٹی میں پاکستان کو نمبر ون ترجیح پر رکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں کسی بھی ویسٹرن ملک کے اشارے پر نہیں چلنا،مزیدٹرمپ یا کسی بھی پاورز کے دباو میں نہیں آنا،اب ہماری خارجہ پالیسی واشنگٹن کی تابعداری سے باہر آئے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت کو خطے کا پولیس مین بننے سے روکنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں خارجہ پالیسی بنانے میں ایشیا کو ترجیح دینا ہوگی۔



















































