ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پیٹرول صارفین کیلئے اہم خبر، آئی ایم ایف نے بڑا مطالبہ کردیا

datetime 3  اکتوبر‬‮  2026 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) پیٹرول ریلیف اسکیم اور گیس سیکٹر کے معاملات پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری مذاکرات میں اہم اختلافات تاحال برقرار ہیں ،

ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے نے ایندھن پر عمومی سبسڈی یا کراس سبسڈی دینے کی مخالفت کرتے ہوئے حکومت پر واضح کیا ہے کہ پیٹرول ریلیف پروگرام کو تین ماہ سے زیادہ جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ تمام صارفین کو عمومی ریلیف دینے کے بجائے کم آمدنی والے اور مستحق افراد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرز پر ٹارگٹڈ سبسڈی کا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے موٹر سائیکلوں اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے جاری فیول ریلیف اسکیم کو فوری طور پر ختم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اس کی مدت میں توسیع کے معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق نہیں ہوسکا۔ آئی ایم ایف کے مطابق تین ماہ کی سبسڈی پر حکومتی اخراجات 75 ارب روپے سے زیادہ ہوسکتے ہیں۔

مذاکرات کے دوران پاکستانی حکام نے پیٹرول کی قیمت کا تفصیلی حساب بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھا۔ حکام کے مطابق درآمدی پیٹرول تقریباً 250 روپے فی لیٹر میں پڑتا ہے جبکہ صارفین کو یہ لگ بھگ 390 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔ فی لیٹر قیمت میں تقریباً 110 روپے ٹیکس اور 27 روپے مختلف مارجنز کی مد میں شامل ہیں۔

گیس سیکٹر کے معاملات بھی مذاکرات میں زیر بحث آئے، جہاں گیس کمپنیوں کے **1.4 ٹریلین روپے** کے قابل وصول واجبات اور گردشی قرضے پر اختلاف برقرار ہے۔ ذرائع کے مطابق گیس شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ تقریباً **3.6 ٹریلین روپے** تک پہنچ چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے گیس کمپنیوں کے تقریباً **850 ارب روپے کے منافع** کو استعمال کرتے ہوئے گردشی قرضے سے نمٹنے کی تجویز دی، تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے اس تجویز پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستانی حکام نے مذاکرات کے دوران ملکی معیشت کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ معاشی آؤٹ لک مستحکم ہے، روپے کی قدر میں استحکام برقرار ہے جبکہ مہنگائی میں کمی اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مقررہ ہدف سے کم رہنے کی توقع ہے۔ حکومت نے رواں مالی سال کے لیے **4 فیصد معاشی نمو** کا ہدف بھی برقرار رکھا ہے۔

ذرائع کے مطابق موجودہ مالی سال کے دوران ملکی برآمدات کا حجم تقریباً **34 ارب ڈالر**، ترسیلات زر **45.5 ارب ڈالر** اور درآمدات **69 سے 70 ارب ڈالر** رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کی توقع کی جارہی ہے۔

مذاکرات میں شرح سود اور ایکسچینج ریٹ سے متعلق معاملات بھی زیر بحث آئے۔ آئی ایم ایف نے مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مانیٹری پ

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…