ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

کشمیر سے متعلق متنازعہ بینر چھاپنے کا کس نے کہا؟ پرنٹنگ پریس کے خلاف بھی کارروائی کرتے ہوئے اہم ملزمان کو تحویل میں لے لیا گیا

datetime 8  اگست‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)اسلام آباد پولیس نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے متنازع بینرز ہٹا دیئے اور مبینہ ملزمان کو گرفتار کرلیا۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں لگے متنازع بینرز کے خلاف اس وقت کارروائی عمل میں لائی گئی جب ان سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر ہوئیں۔وفاقی دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے ہٹائے جانے والے بینرز پر گزشتہ دنوں بھارت کی ایوان بالا، راجیا سبھا (کونسل آف اسٹیٹ) کے اجلاس کی ایک تصویر موجود تھی جس کے نیچے بھارتی رکن اسمبلی

سنجے روت کا اسمبلی میں دیا گیا پاکستان مخالف بیان انگریزی میں تحریر تھا اور بینرز پر آویزاں تصویر میں بھی وہ نظر آرہے تھے۔پولیس کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزمان، جس نے بینرز بنائے تھے، کے مطابق انہیں گوجرانوالہ کے ایک رہائشی شخص کی جانب سے بینرز کی اشاعت کے لیے کہا گیا تھا۔پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد بینرز بنانے والے پرنٹنگ پریس کو مہر بند کردیا۔بعد ازاں انٹیلی جنس اداروں نے ملزمان کو پولیس سے اپنی تحویل میں لیا اور انہیں مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…