ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پل کی راتوں رات تعمیر، پاک فوج کے کارنامے نے عوام کے دل جیت لئے

datetime 24  جولائی  2019 |

پشاور(آن لائن)پاک فوج نے خوازہ خیلہ مین شاہراہ پر ڈکوراک کے مقام پر شکستہ پل کی راتوں رات تعمیر نو مکمل کرکے اسے اگلے دن ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بحال کر دیا جس کی بدولت مقامی لوگوں کے علاؤہ سیاحوں کا بڑا مسئلہ حل ہو گیا اور گاڑیوں کی آمد و رفت میں آسانی پیدا ہوگئی سوات کے عوامی حلقوں نے اس بہترین اقدام پر پاک فوج کی تعریف کی ہے تفصیلات کے مطابق

خوازہ خیلہ کی مین شاہراہ پر ڈکوراک کے قریب سٹیل پل ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا جس سے یہاں راہگیروں کے علاؤہ ٹریفک کی آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا تھا اہل علاقہ نے اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر فریاد کی تو اس کا پاک فوج نے نوٹس لیتے ہوئے فوری سروے کیا اور اگلے ہی روز پاک فوج کے 30 انجینئرجوانوں کا دستہ پل کی مرمت کے لیے روانہ کیا گیا چونکہ سیاحتی سیزن کی وجہ سے اس شاہراہ پر عموماً ٹریفک کا رش رہتا ہے اس لئے تعمیراتی کام رات کو شروع اور ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا چنانچہ 23 جولائی کو پاک فوج کے جوان سول انتظامیہ کے تعاون کے ساتھ رات 8 بجے پل کی مرمت میں مصروف ہو گئے پوری رات انتھک محنت کرکے اسکی تعمیر اسی رات مکمل کر لی گئی جبکہ اگلے روز 24 جولائی کو دن 12 بجے پل کو مکمل طور پر ٹریفک کیلئے بحال کر دیا گیا پل کی مرمت اور تعمیر نو سے یہاں ٹریفک کی آمدورفت دوبارہ شروع ہو گئی پاک فوج کے انجینئرز نے یہ بھی یقین دلایا کہ عالم گنج کے مقام پر خراب پل پر 2 دن میں کام شروع کیا جائے گا علاقے کے عوام نے پاک آرمی کے اس اقدام کو خوب سراہا اور اس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…