ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

شاکراللہ پر تشدد ریاستی تشدد ہے، وزارت خارجہ کہاں سو رہی ہے ؟ ہم کسی پارٹی کے ساتھ نہیں پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں، شیری رحمان نے شاکر اللہ کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے

datetime 6  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کی پارلیمانی رہنما سینیٹر شیری رحمن نے کہاہے کہ شاکراللہ پر تشدد ریاستی تشدد ہے، وزارت خارجہ کہاں سو رہی ہے ؟ٹی وی پر جانا کافی نہیں ایوان میں آکر جواب دینا چاہیے، ہم کسی پارٹی کے ساتھ نہیں پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ بدھ کو سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہاکہ شاکراللہ پاکستان کا شہری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے شہریوں کا تحفظ حکومت کی زمہ داری ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس پر جو بہیمانہ تشدد ہوا کوئی اس پر نہیں بولا۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے فوجی شہید ہو رہے ہیں،معذرت کس بات پر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان نے دو بار پاکستان کی حدود کی خلاف ورزی کی۔انہوں نے کہاکہ پاک بحریہ نے بہت ذمہ دارانہ بیان دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حیرت ہے کہ ریاست کے تحفظ پر کوئی حکومتی رکن بولتا نہیں۔ انہوں نے کہاکہ شاکراللہ پر تشدد ریاستی تشدد ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر ہمارے ہاں کسی جیل میں کسی بھارتی کے ساتھ یہ سلوک ہوتا تو سوچے کیا ہوتا۔ انہوں نے کہاکہ وزارت خارجہ کہاں سو رہی ہے ،ہمیں دعوؤں کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپنے ملک کے نیشنل ایکشن پلان پر کیوں کوئی نہیں بولتا؟ انہوں نے کہاکہ شاکر اللہ کا جسم چھلنی کیا گیا اور کسی نے اس کے خاندان کو نہیں پوچھا۔انہوں نے کہاکہ ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے ،بار بار سوال کرنے پر کیونکہ کوئی جواب نہیں آتا۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں حقارت سے دیکھا جاتا ہے،یہ ذات کا نہیں پاکستان کی ریاست کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ٹی وی پر جانا کافی نہیں ایوان میں آکر جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی پارٹی کے ساتھ نہیں پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھی حکومتیں چلائیں ہیں اور سینیٹ اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں رکاوٹ نہیں آئی۔ انہوں نے کہاکہ عہدوں پر ہیں تو اپنی ذمہ داری سمجھیں،یا کہہ دیں کہ ہمیں کچھ نہیں پتا۔ انہوں نے کہاکہ جب پاکستان خطرے میں ہوگا تو ہمیں جتنا چاہیں استعمال کریں۔ انہوں نے کہاکہ روایت ڈالی جائے کہ وزراء اسمبلی میں آئیں اور اہم سوالوں کے جواب دیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…