ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پاک فضائیہ کے شاہینوں کی صلاحیتوں کا بھارتی میڈیا بھی معترف پاکستانی طیاروں نے صرف کتنے سیکنڈ میں بھارتی مگ طیار مار گرایا ہندوستان ٹائمز کا اعتراف

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)دو روز قبل پاک فضائیہ نے کامیاب کاروائی کرتے ہوئے بھارت کے دو طیارے حدود کی خلاورزی کرنے پر گرائے تھے جس میں ایک بھارتی پائلٹ مارا بھی گیا تھا جب کہ ایک بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا تھا۔جس کے بعد گذشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھارتی پائلٹ کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا تھا جسے دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

وزیراعظم نے پاک فضائیہ کی تعریف بھی کی تھی۔جب کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں کی صلاحیتوں کابھارتی میڈیا بھی معترف نکلا ہے۔ہندوستان ٹائمز میں چھپنے والے آرٹیکل میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ پاکستانی طیاروں نے صرف 90سینکڈز میں مگ طیارہ مار گرایا۔جب کہ بھارتی پائلٹ گرانے والے پاکستانی پائلٹ حسن محمود صدیقی کی بھی سوشل میڈیا پر خوب تعریفیں کی جا رہی ہیں۔پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے دو طیارے مار گرائے تھے جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھارتی طیاروں کو مار گرانے والے پاکستانی پائلٹ اسکوارڈن لیڈر حسن محمود صدیقی کی تصاویر گردش کرنے لگیں۔ پاک فضائیہ کے ہیرو اسکواڈرن لیڈر حسن نے کل صبح بھارتی جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر مار گرایا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے قوم کے اس ہیرو کوزبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہمیں آپ پر فخر ہے ، آج آپ نے بھارتی طیاروں کو گرا کر ایم ایم عالم کی یاد تازہ کردی۔پاک فضائیہ کے بہادر سپوت اسکوارڈن لیڈر حسن محمود صدیقی نارتھ کراچی میں عثمان پبلک اسکول کے طالبعلم رہ چکے ہیں۔ انہوں نے 1999ء میں عثمان پبلک اسکول سے میٹرک کیا۔ اسکوارڈن لیڈر حسن کے اسکول کے ساتھی احمر خان نے بتایا کہ حسن کو بچپن سے ہی فوج میں جانے کا شوق تھا۔ حسن کے والد کا نام محمود عالم ہے۔ حسن اسکول میں ایم ایم عالم کے بیٹے کے نام سے مشہور تھے۔ انہیں پاک فضائیہ میں جا کر دشمن کے دانت توڑنے کا جذبہ تھا۔ ڈرائنگ کی کلاس میں حسن لڑاکا طیاروں کی تصاویر بناتے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…