اسلام آباد(نیوز ڈیسک) پنجاب حکومت تمام ان شہروں میں جہاں تھیٹر ڈراموں کی آڑ میں بیہودہ رقص ہوتا ہے ان پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق لاہور میں سرکاری ڈرامہ ہالوں الحمراءمیں گزشتہ دنوں چند معیاری اور صاف ستھرے ڈرامے فیملیز کے لئے دکھائے گئے جن کو فیملیز سمیت عوام کی کثیر تعداد نے سراہا۔چنانچہ اس تجربے کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر نجی ڈرامہ ہالوں میں بھی رقص پر پابندی لگانے پر غور کیا جارہا ہے۔سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ رقص پر پابندی سے تھیٹر ہالوں میں معیاری ڈراموں اور فیملیز کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو فروغ ملے گا۔اس سلسلے میں اداکار سہیل احمد ،قوی خان،علی اعجاز،مسعود اختر،انور علی ،امان اللہ،خالد معین بٹ اور دیگر بہت سے فنکاروں نے حکومت پنجاب اور ضلعی حکام کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے جلد از جلد اس پر عملدرآمد کرنے کو کہا ہے۔ ان فنکاروں کا کہنا ہے کہ تھیٹر ذرائع ابلاغ کا ایک ذریعہ ہے اور اس سے معاشرے کو سدھار نے کے لئے تفریح کے ہمراہ بہت سا کام لیا جاسکتاہے۔موجودہ حکومت کو تھیٹر ڈراموں کے علاوہ ملک بھر میں چلنے والی رقص کی سی ڈیز اور ان کا مختلف چینلز پر چلانے پر بھی پابندی عائد کرنا چاہئے۔
پنجاب حکومت کا نجی ڈرامہ ہالز میں رقص پر پابندی لگانے پر غور
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
چین جائیں
-
مون سون بارشیں برسانے والا نیا سسٹم پاکستان میں کب داخل ہوگا ؟محکمہ موسمیات نے خوشخبر ی سنا دی
-
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے غیرملکی خواتین کے اغواءکے پس پردہ حقائق بتا دیئے
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
-
سانحہ جھیل سیف اللہ: (ر) کمانڈرعامر کے برادر نسبتی نے قتل کا شبہ ظاہر کردیا، بھتیجے پر سنگین الزامات
-
متعدد بار زیادتی کی گئی، رضا ڈار کیس میں غیر ملکی خاتون کے تہلکہ خیز انکشافات
-
سونے کی قیمت میں آج بھی بڑا اضافہ
-
رضا ڈار، ا سحاق ڈار کا نواسہ ہے، غیر ملکی لڑکیوں سے 15 لاکھ ڈالرز وصول کیے گئے لیکن رضا ڈار نے لڑکی...
-
پاکستان میں سونے کی قیمت میں کمی
-
750 روپے مالیت کے پرائز بانڈ رکھنے والوں کیلئے خوشخبری
-
ٹیلی کام شعبے میں بڑا انقلاب، ٹیلی نار پاکستان اور یوفون ایک کمپنی بن گئے
-
جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل ختم،نوٹیفیکیشن جاری
-
تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی، عالمی مارکیٹ سے ایک اور خوشخبری
-
وزیراعظم اپنا گھراسکیم کا دائرہ وسیع، نان بینکنگ کمپنیاں بھی پروگرام میں شامل



















































