بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر اہم ترین شخصیات کے اکائونٹس اور ویب سائٹس بند کرنے کا فیصلہ۔۔۔!

datetime 26  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انٹرنیٹ پر فلسطینی کارکنان اور بلاگروں نے فیس بک پر پوسٹنگ روک دینے کی مہم کا آغاز کر دیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق اس کا سبب فیس بک کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اشتعال کو بنیاد بنا کر فسلطینیوں کے نشر و اشاعت کی آزادی پر حملہ بتایا گیا ہے۔ صبح آٹھ بجے سے رات دس بجے تک جاری رہنے والی مہم FBCensorsPalestine# کے نام سے متعارف کرائی گئی۔ مہم کے منتظمین نے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ فیس بک کی انتظامیہ کا رواں ماہ ستمبر میں قابض اسرائیلی حکام کے ساتھ اس امر پر اتفاق ہوا ہے کہ اشتعال کو بنیاد بنا کر فیس بک پر فلسطینی شخصیات اور فلسطینی ویب سائٹوں کے صفحات کو ختم کر دیا جائے۔دوسری جانب اسرائیلی وزیر انصاف نے بتایا کہ فیس بک نے فلسطینی شخصیات اور ویب سائٹوں کے صفحات کو ختم کرنے کے حوالے سے اکثر مطالبات کا جواب دیا ہے۔ پیشگی اطلاع یا انتباہ کے بغیر حذف کیے جانے والے صفحات میں شہاب نیوز ایجنسی وار القدس نیوز نیٹ ورک کے صفحات شامل ہیں۔اس سلسلے میں ایک کارکن اور بلاگر محمود حریبات نے بتایا کہ فیس بک کے خلاف مہم ان افراد یا صحافیوں نے شروع کی ہے جن کو خود یا وہ جن ویب سائٹوں کے لیے کام کرتے ہیں ان کو فیس بک کی پالیسیوں کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اب یہ مکمل طور پر فلسطینی مہم بن چکی ہے اور بین الاقوامی سطح کی جانب گامزن ہے ۔حریبات کے مطابق فیس بک نے جو کیا ہے وہ آزادی اظہار کے معیار کے خلاف ہے جب کہ یہاں دْہرا معیار بھی دیکھا جا رہا ہے ۔ ایسے بہت سے صفحات ہیں جو فلسطینیوں کے خلاف اشتعال پھیلا رہے ہیں تاہم ان کے ساتھ یہ معاملہ نہیں کیا جا رہا ہے۔مہم کے منتظمین نے فیس بک انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حکام کے ساتھ ہونے والے اتفاق رائے سے فوری طور پر رجوع کرے۔ ساتھ ہی بھی کہا گیا ہے کہ فیس بک قابض اسرائیلی حکام کی غیر قانونی پالیسیوں اور کارروائیوں کی حمایت بند کرے اور اسرائیلی حکام کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے انٹرنیٹ صارفین کو اعلانیہ طور پر آگاہ کرے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…