ہفتہ‬‮ ، 13 جون‬‮ 2026 

نوجوان صحافی کے آخری لمحات اور آخری گفتگو، دوست نے تفصیل بیان کردی

datetime 3  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)نوجوان صحافی ومعروف ڈیجیٹل کانٹینٹ کریئیٹرراجہ مطلوب کے قریبی دوست نے ان کی آخری گفتگو اور حادثے سے متعلق تفصیلات شیئر کردیں۔ راجہ مطلوب پاکستان کے ایک معروف ڈیجیٹل چینل سے وابستہ تھے اور وہ اسلام آباد سے اپنی ویڈیو رپورٹس کی وجہ سے ایک الگ پہچان رکھتے تھے۔ تاہم، دسمبر میں وہ اچانک ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے قریبی دوست عدنان فیصل کی سالگرہ میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ عدنان فیصل بھی ایک معروف ڈیجیٹل کریئیٹر ہیں اور’ ایف ایچ ایم پاکستان’ کے پوڈ کاسٹ کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ اسلام آباد کے سیکٹر جیـ11 میں راجہ مطلوب کے حادثے کی ویڈیو سوشل میڈیا پرتیزی سے وائرل ہوئی جس میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ دوست کی سالگرہ پر وقت پر پہنچنے کی کوشش میں تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہے تھے۔

عدنان فیصل نے ایک ویڈیو میں اپنی دوست سے متعلق کھل کر گفتگو کی اور اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے جب راجہ مطلوب ان کی سالگرہ منانے آتے ہوئے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔عدنان فیصل نے کہا کہ یہ سال میرے لیے بہت مشکل ہوگا کیونکہ میں نے اپنے سب سے پیارے دوستوں میں سے ایک، راجہ مطلوب کو کھو دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ میرے نصیب میں کامیابیاں تو ہوں گی تاہم میرے ساتھ راجہ مطلوب نہیں ہوگا، آپ نے سوشل میڈیا پر ایک حادثے کی وائرل ویڈیو دیکھی ہوگی، وہ میرا دوست راجہ مطلوب تھا جو میری سالگرہ پر آ رہا تھا۔فیصل عدنان نے بتایا کہ میں نے اسے فون کیا اور کہا، تم کہاں ہو؟ میری اسلام آباد میں سالگرہ ہے اور تمہیں یہاں ہونا چاہیے، جس پر اس نے مجھے جواب دیا کہ میں کوئٹہ میں ہوں اور شاید شرکت نہ ہوسکے۔

انہوںنے کہاکہ مگر وہ میرا ایسا دوست تھا جو ہر حال میں میری سالگرہ پر پہنچنا چاہتا تھا جس کیلئے اس نے پرائیویٹ جیٹ لیا، لاہور میں لینڈ کیا اور پھر موٹروے کے ذریعے بہت تیز رفتاری سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔عدنان فیصل نے روتے ہوئے بتایا کہ وہ مسلسل فون کرتا رہا اور کہتا رہا کہ وہ جلد پہنچ جائے گا، رات 10 بج کر 10 منٹ پر اس نے فون کرتے ہوئے کہا کہ میں اسلام آباد پہنچ گیا ہوں اور اسی کال کے دوران مجھے ایک زوردار ٹکر کی آواز سنائی دی۔انہوں نے کہا کہ اسی لمحے ایک شخص نے اس کا فون اٹھایا اور مجھ سے کہا کہ حادثے کی جگہ پر آ جائیں، جس دوست کو آپ نے فون کیا تھا وہ فوت ہوچکا ہے اور جب میں وہاں پہنچا تو وہ خون میں لت پت تھا۔عدنان فیصل نے کہا کہ میں نے اسے اپنی بانہوں میں لیا، اس وقت وہ میرے ہاتھوں میں آخری سانسیں لے رہا تھا، میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا وہ زندہ ہے؟ اس نے بتایا کہ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، مگر ان کا غم کبھی نہیں جاتا، راجہ چلا گیا ہے اور مجھے اس غم کے ساتھ ہی جینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…