حکمرانوں کا لالچ ذلت اور رسوائی کی آخری حد تک پہنچ چکا ہے’شیخ رشید

1  جون‬‮  2023

لاہور ( این این آئی) سربراہ عوامی مسلم لیگ وسابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ریاست اور سیاست میں ریاست لازم و ملزوم ہے، جس طرح چادر اور چاردیواری کی بے حرمتی اور تھانوں میں رشوت وصول کی جا رہی ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے لے کر آسٹریلیا تک اور چین سے لے کر سعودی عرب تک سب سمجھا رہے ہیں کہ عقل کے ناخن لیں لیکن حکمرانی کی لالچ ذلت اور رسوائی کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کھوٹا سکہ ثابت ہوئی، غریب حقیر و ذلیل ہوگیا، امیر فقیر و رسوا ہوگیا، کاروبار تباہ ہوگئے، ڈالر 320کا بھی نہیں مل رہا، سیاسی، معاشی، اقتصادی تباہی ہو رہی ہے، میں 50سال سے ایک سیٹ کی سیاست کرتا ہوں اور میری اپنی پارٹی عوامی مسلم لیگ ہے۔سربراہ عوامی مسلم لیگ کا کہنا تھا کہ 4مرتبہ میرے گھروں پر وحشیانہ چھاپے مارے اور توڑپھوڑ کی گئی ہے، پولیس افسران جو ہمیشہ میرے گھروں سے میری دونوں گاڑیاں اغواء کرنے اور ملازموں پر تشدد کرنے کے شوقین ہیں، ان کی ویڈیوز موجود ہیں۔سابق وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ صرف موسم بہار کا انتظار کریں، قانون کے شکنجے میں آ کر رہیں گے، خیبر پختونخوا میں پولیس ڈرتی ہے، پنجاب اور اسلام آباد میں بیویوں ،بیٹیوں کی بے حرمتی کرتی ہے لیکن آخر کب تک۔

موضوعات:



کالم



فواد چودھری کا قصور


فواد چودھری ہماری سیاست کے ایک طلسماتی کردار…

ہم بھی کیا لوگ ہیں؟

حافظ صاحب میرے بزرگ دوست ہیں‘ میں انہیں 1995ء سے…

مرحوم نذیر ناجی(آخری حصہ)

ہمارے سیاست دان کا سب سے بڑا المیہ ہے یہ اہلیت…

مرحوم نذیر ناجی

نذیر ناجی صاحب کے ساتھ میرا چار ملاقاتوں اور…

گوہر اعجاز اور محسن نقوی

میں یہاں گوہر اعجاز اور محسن نقوی کی کیس سٹڈیز…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے (آخری حصہ)

میاں نواز شریف کانگریس کی مثال لیں‘ یہ دنیا کی…

نواز شریف کے لیے اب کیا آپشن ہے

بودھ مت کے قدیم لٹریچر کے مطابق مہاتما بودھ نے…

جنرل باجوہ سے مولانا کی ملاقاتیں

میری پچھلے سال جنرل قمر جاوید باجوہ سے متعدد…

گنڈا پور جیسی توپ

ہم تھوڑی دیر کے لیے جنوری 2022ء میں واپس چلے جاتے…

اب ہار مان لیں

خواجہ سعد رفیق دو نسلوں سے سیاست دان ہیں‘ ان…

خودکش حملہ آور

وہ شہری یونیورسٹی تھی اور ایم اے ماس کمیونی کیشن…