ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ریکوڈک کیس پر ڈِس انفارمیشن ڈگری ابھی موجود ہے،جسٹس (ر) وجیہہ الدین کا حیرت انگیز انکشاف

datetime 26  مئی‬‮  2021 |

کراچی (این این آئی) عام لوگ اتحاد کے رہنما جسٹس (ر) وجیہ الدین نے کہا ہے کہ حال ہی میں پاکستان کے اٹارنی جنرل آفس کی طرف سے جو دعویٰ کیا گیا ہے کہ برٹش ورجن آئی لینڈز کے ہائی کورٹ نے پاکستان کیخلاف ریکوڈک کیس میں 5.97 بلین ڈالر کی ڈگری کو ناقابل عمل درآمد قرار دے کر پی آئی اے کے روز ویلٹ ہوٹل

نیویارک اور اسکرائب ہوٹل پیرس و دیگر اثاثہ جات سے ریسیور اٹھالیا ہے، کافی حد تک ڈس انفارمیشن پر مبنی ہے، ڈگری ابھی موجود ہے۔ خود عمران خان نے بھی اس کارروائی کو ریکوڈک کیس سے خلاصی پانے پر اٹارنی جنرل خالد جاوید کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جسٹس وجیہ نے کہا دراصل یہ باتیں واویلا قبل از مرگ کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہائی کورٹ آف جسٹس برٹش ورجن آئی لینڈز نے صرف اس معاملے کو اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتا ہوا قرار دیا ہے اور ریکوڈک پر مقدمہ کا ہرجہ خرچہ مختص کردیا ہے۔ مزید برآں اس فیصلے کیخلاف اپیل کا حق بھی ریکوڈک کے پاس موجود ہے۔ یہ اس کے علاوہ ہے کہ ریکوڈک ایسی عدالت میں جائے جس کے دائرہ اختیار میں ڈگری پر عمل درآمد آتا ہو۔ قصہ مختصر ڈگری اپنی جگہ موجود ہے۔ اب بھی کرنا یہی ہے کہ مجاز عدالت سے اس کی تنسیخ کرائی جائے اور صرف اتنی احتیاط کہ پی آئی اے جیسے انٹرنیشنل اداروں کے اثاثے بشکل روز ویلٹ اور اسکرائب ہوٹل وغیرہ محفوظ بنائے جائیں۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ براڈ شیٹ کیس کی طرح 28 ملین ڈالر پاکستانی ہائی کمیشن جیسے اکاؤنٹس میں سہولتاً نہ رکھ دیئے جائیں جہاں سے ہائی کورٹ آف لندن صرف دو جملوں کی بنیاد پر رقم منجمد کرسکے۔ کیا یہ بھی پاکستانی حکومتوں کیلئے مشکل کام ہیں؟۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…