ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

جامعہ الرشید اور جامعہ بنوریہ نے وفاق المدارس سے علیحدگی اختیار کرلی

datetime 10  مئی‬‮  2021 |

کراچی (آن لائن)وزارتِ تعلیم کی جانب سے نئے تعلیمی بورڈ ”مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان ” کی منظوری کے بعد جامعہ الرشید اور جامعہ بنوریہ نے وفاق المدارس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ حکومت کی سرپرستی میں قائم نیا بورڈ ” مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان ”قدیم و جدید علوم کے امتزاج سے وفاق کے بجائے اپنا نصاب تعلیم شروع کریگا جس کو مختلف اسلامی جامعات کے نظام سے اخذ کیا گیا ہے۔

اس بورڈ کے تحت مدارس میں جدید فقہ کو بھی شامل کیا جائے گا۔ حکومتی سرپرستی میں بنائے جانے والے بورڈ میں وفاق المدارس کے درسِ نظامی کے روایتی نصاب کے علاوہ مزید اضافی مضامین بھی نصاب میں شامل کئے جائیں گے۔ مجمع العلوم الاسلامیہ پاکستان کا اصل نظام تعلیم جامعہ الرشید کے نصاب و نظام جیسا ہی ہو گا۔ واضح رہے کہ جامعہ الرشید کا نظام جدید و معروضی حالات سے کسی حد تک مطابقت رکھتا ہے جس میں درس نظامی کے ساتھ عصری علوم کی بھی تعلیم دی جاتی ہے ۔دوسری جانب الخدمت کی جانب سے 50ہزار سے زائد مستحق اور ضرور ت مند خاندانوں میں” رمضان فوڈ پیکیج” کے تحت خشک راشن تقسیم کر دیا گیا ۔ راشن میں آٹا ،چاول ،چینی ،دالیں ،پکوان تیل ،کھجور،مشروب سمیت دیگر اشیا شامل تھیں ۔کروڑوں روپے مالیت کا راشن ضرورت مندوں اورمستحقین میں تقسیم کیا گیا ،جس سے مجموعی طور پر ڈھائی لاکھ افراد نے استفادہ کیا ۔دریں اثنا ڈائریکٹر کمیونٹی سروسز قاضی سید صدرالدین نے کہا کہ الخدمت نے ماضی کے روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس رمضان میں بھی بڑے پیمانے پر مستحق اور ضرورت مندخاندانوں میں راشن تقسیم کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ راشن الخدمت کی جانب سے ضلع وسطی ،غربی ،شرقی ،جنوبی ،کورنگی اور ملیر میں لوگوں کے گھروں تک پہنچایا گیا ۔قاضی سید صدرالدین نے کہا کہ ماہ

مقدس رمضان المبار ک نیکیاں کمانے ،اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا مہینہ کے اور اس ماہ میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے بڑے اجرو ثواب کے مستحق ہیں ۔ تقسیم کیے گئے راشن سے 50ہزار خاندانوں کے دولاکھ 50ہزار افراد نے استفادہ کیا۔راشن کی تیاری کے لیے الخدمت نے مختلف مقامات پر سینٹرز قائم کیے تھے ،جبکہ سیکڑوں رضاکاروں نے راشن کی تقسیم کے عمل میں حصہ لیا۔انہوں نے کہا کہ معاشرے کے کمزور طبقات کی مدد کر نا ہمار ا دینی واخلاقی فریضہ ہے اورالخدمت اس فریضے کوبااحسن خوبی انجام دے رہی ہے ۔قاضی سید صدر الدین نے اپیل کہ مخیر حضرات الخدمت کے کاموں میں اس کا ساتھ دیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…