جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قرار دیا، میں خون کے آخری قطرے تک لڑوں گا، جسٹس فائز عیسیٰ کے دلائل

datetime 15  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی کیس کی سماعت آئندہ پیر تک ملتوی کر دی ہے۔ جمعرات کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کیس پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دلائل دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ میری اہلیہ کیس میں فریق نہیں تھیں پھر بھی

انکے خلاف فیصلہ دیا گیا، اپنی اہلیہ بیٹی اور بیٹے سے معذرت خواہ ہوں، میری وجہ سے اہلیہ اور بچوں کے خلاف فیصلہ آیا، آج تک ایک شخص عدالت میں موجود نہیں ہے، فروغ نسیم کے لیے عدالت کا احترام نہیں وزرات ضروری ہے،وزیر قانون فروغ نسیم نے میری اہلیہ اور مجھ پر الزامات عائد کیے،فروغ نسیم کو شاید اسلامی تعلیمات کا بھی علم نہیں،نبی کریم ؐ بھی اپنی اہلیہ کے لیے کام کرتے تھے،کہنے کو ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان دراصل منافقین کی قوم ہیں،جسٹس فائز عیسی نے گانے اور شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’غم عشق لے کر جائیں کہاں آنسوؤں کی یہاں قیمت نہیں‘‘ کیس ایف بی ار کو بھجوانے کا فیصلہ عدالتی اختیارات سے تجاوز تھا،آرٹیکل 184/3 بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہے،میری بیٹی اور بیٹے کو ایف بی ار نوٹس کا حکم بنیادی حقوق کے زمرے میں نہیں آتا،ٹیکس کمشنر ذولفقار احمد نے عدالت کے دباؤ میں آکر کارروائی کی،سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان نے بدنیتی پر مبنی کارروائی کی، سپریم جوڈیشل کونسل نے کبھی مجھے صفائی کا موقع نہیں دیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے انصاف کا قتل عام کیا،صدر مملکت نے میرے تین خطوط کا جواب تک دینا گوارا نہیں کیا،مجھے ریفرنس کی کاپی نہیں ملی لیکن میڈیا پر بینڈ باجا شروع ہوگیا،میرے اور اہلخانہ کیخلاف فیفتھ جنریشن

وار شروع کی گئی، آصف سعید کھوسہ نے میرا موقف سنے بغیر میری پیٹھ میں چھرا گھونپا،میرے ساتھی ججز نے جوڈیشل کونسل میں مجھے پاگل شخص قرار دیا،ججز سے غلطی ہو جائے تو نظر ثانی کا اختیار حاصل ہے،عدالتی حکم آئین اور متعدد قوانین کے خلاف ہے، کسی شخص کے ٹیکس ریکارڈ تک غیر قانونی رسائی فوجداری جرم

ہے، وزیر قانون نے اپنے دلائل میں انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 198 کو بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا تھا، سماعت مکمل ہونے کے بعد بھی فروغ نسیم تحریری دلائل جمع کراتے رہے،فروغ نسیم نے حلف کی خلاف ورزی کی انہیں فوری طور پر برطرف کیا جانا چاہیے، تفصیلی فیصلہ آنے سے پہلی ہی ایف بی آر کو کاروائی مکمل

کرنے کا کہا گیا، کہا گیا عمران خان کی فیملی کے بارے میں بات نہیں ہوسکتی، عمران خان کرکٹر تھے تو ان کا مداح تھا اٹوگراف بھی لیا، عمران خان بھی ایک انسان ہیں، جسٹس عظمت سعید میرے دوست تھے لیکن ان کے فیصلے پر دکھ ہوا، جسٹس عظمت سعید آج حکومت کی پسندیدہ شخصیت ہیں، ملک کو باہر سے نہیں اندر سے خطرہ ہے، پاکستان کو باہر سے کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…