بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

راولپنڈی، غیرت کے نام پر شادی شدہ خاتون کو قطر سے پاکستان لا کر قتل کر دیا گیا

datetime 2  جنوری‬‮  2026 |

راولپنڈی(این این آئی)تھانہ واہ کینٹ کے علاقے پیرودھائی جرگہ قتل کیس طرز پر ایک اور سنگین واردات سامنے آئی ہے جہاں غیرت کے نام پر ایک شادی شدہ خاتون کو قطر میں مبینہ تعلقات کے شبے میں پاکستان منتقل کرکے اپنے والد کے گھر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا۔پولیس کے مطابق، فائرنگ کرنے والوں میں مقتولہ سمیرہ عزیز کے والد کے قریبی عزیز شامل تھے۔ان کا چچا اور شوہر قطر سے فون اور ویڈیو کال کے ذریعے قتل کے احکامات دیتے رہے اور سہولت کاری فراہم کرتے رہے۔

سی پی او راولپنڈی خالد ہمدانی نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کرنے اور وسیع پیمانے پر تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ مقدمہ سب انسپکٹر آصف اقبال خان کے بیان پر درج کیا گیا۔متن مقدمہ کے مطابق، مقتولہ سمیرہ عزیز ایک ہفتہ قبل قطر سے اپنے شوہر سلیمان اور چچوں شوکت اور فیصل کے ہمراہ پاکستان آئی تھی۔شام کے وقت ولید، اسرار اور صابر گھر میں آئے، جہاں انہوں نے کچھ دیر بیٹھ کر مشورہ کیا۔

بعد ازاں مقتولہ کی ہمشیرہ ثناء خان نے بتایا کہ اس دوران قطر سے سلیمان کی ویڈیو کال آئی جس میں چچی سعیدہ کو کہا گیا کہ سمیرہ کو ٹھکانے لگا دو۔اس کے بعد ولید اور اسرار نے پسٹل نکال کر سمیرہ عزیز پر فائرنگ شروع کر دی۔ گولیاں جسم کے مختلف حصوں میں لگیں اور وہ زخمی ہو کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی۔فائرنگ کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے جبکہ مقتولہ کی نعش کو چچا شوکت اور فیصل نے گاڑی میں ڈال کر ہسپتال لے جایا۔پولیس نے مقدمہ قتل، غیرت کے نام پر قتل اور اعانت جرم کی دفعات کے تحت درج کر لیا ہے، اور ولید، اسرار، صابر کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔مقتولہ کا چچا امتیاز اور شوہر سلیمان بیرون ملک مقیم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…