ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا نے بھارت سے فاصلہ کیوں بڑھایا؟ فنانشل ٹائمز کی چونکا دینے والی رپورٹ

datetime 1  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد ۰نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے صدارتی دور میں بھارت اور امریکا کے باہمی تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک کے روابط تاریخ کی نچلی سطح پر پہنچ گئے ہیں۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری نے بھارت کی معیشت، سفارتی حکمتِ عملی اور بڑے کارپوریٹ حلقوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مودی حکومت کی ہندوتوا نظریے پر مبنی داخلی پالیسیوں اور غیر واضح خارجہ ترجیحات نے امریکا کے ساتھ تعلقات کو کمزور کیا۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان بھارت کے بڑے صنعتکاروں اور ارب پتی کاروباری افراد کو ہوا ہے، جو بھاری سرمایہ کاری کے باوجود امریکا میں قانونی اور تجارتی سہولتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

فنانشل ٹائمز کے مطابق بھارتی ارب پتیوں نے امریکی پالیسی سازوں پر اثرانداز ہونے کے لیے لاکھوں ڈالر لابنگ پر خرچ کیے، مگر اس کے باوجود امریکی فیصلوں میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آ سکی۔ رپورٹ میں گوتم اڈانی کے خلاف جاری قانونی معاملات کو مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذاتی تعلقات اور لابنگ امریکی قانونی نظام پر اثر ڈالنے میں مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حالیہ علاقائی تناؤ اور بھارت کی پالیسیوں کے باعث امریکا اب بھارت کو خطے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ ٹرمپ اور مودی کے درمیان ٹیرف تنازع کے دوران رابطے تقریباً ختم رہے، جبکہ اسی عرصے میں امریکا کی جانب سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو ماہرین بھارت کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا قرار دے رہے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر بھارت نے امریکا کے ساتھ اختلافی رویہ برقرار رکھا تو اسے سخت معاشی اور قانونی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

روسی تیل کی درآمد پر امریکی ناراضی اور بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف اس بات کا اشارہ ہیں کہ واشنگٹن اب بھارت کی اسٹریٹجک خودمختاری کو پہلے جیسی قبولیت دینے کے موڈ میں نہیں۔ماہرین کے مطابق مکیش امبانی جیسے بڑے صنعتی گروپس نے روسی تیل کی ریفائننگ سے اربوں ڈالر کمائے، مگر یہی پالیسی امریکا کے ساتھ اختلافات کی ایک بڑی وجہ بنی۔ اگرچہ امریکا ماضی میں بھارت کو چین کے مقابل ایک اہم شراکت دار سمجھتا تھا، لیکن موجودہ حالات میں بھارت کا طرزِ عمل واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث بن چکا ہے۔مزید یہ کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور خطے میں بڑھتے تصادم کے خدشات نے بھی امریکا کے بھارت سے متعلق تحفظات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…