اسلام آباد (نیوز ڈیسک) آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے
جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پیٹرول کی قیمت میں 73 روپے سے زائد اضافہ کر کے اسے تقریباً 394 روپے فی لیٹر تک پہنچایا جا رہا ہے۔اوگرا کے ترجمان کے مطابق ایسی کوئی سمری تیار نہیں کی گئی جس میں پیٹرول کی قیمت میں 73.40 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 84.95 روپے فی لیٹر اضافے کی سفارش کی گئی ہو، اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تجویز وزیراعظم ہاؤس کو ارسال کی گئی ہے۔ادارے نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے بارے میں زیر گردش یہ اطلاعات مکمل طور پر غلط ہیں۔ ترجمان نے عوام سے درخواست کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں کیونکہ اس قسم کی افواہیں عوام میں بے چینی اور اضطراب پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔
یہ وضاحت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان اپنی پیٹرولیم ضروریات کا تقریباً 60 فیصد حصہ درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیاں براہِ راست مقامی قیمتوں کو متاثر کرتی ہیں۔
گزشتہ جمعہ کو حکومت نے عالمی منڈی کے دباؤ کے پیش نظر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فی لیٹر 55 روپے کا نمایاں اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 321.17 روپے جبکہ ڈیزل 335.86 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی۔
حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین ایک طے شدہ سرکاری طریقہ کار کے مطابق کیا جاتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی فیصلے کا اعلان صرف سرکاری ذرائع کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے۔



















































