مذہب کی جنگ(آخری حصہ)
اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘ یہ کراچی میں پیدا ہوا‘ خاندان افغانستان سے کراچی آیا اور قالین کے کاروبار سے وابستہ ہو گیا‘ عمویل کی تعلیم کراچی کے سکولوں اور کالجوں میں ہوئی‘ یہ آج بھی کراچی سٹائل میں اردو بولتا ہے‘ یہ لوگ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کراچی سے تل ابیب شفٹ ہو گئے‘ اسرائیل میں اس وقت اس کے خاندان کے 120لوگ آباد ہیں‘ میری گاہے بگاہے اس سے بات ہوتی رہتی ہے‘ میں نے چند ماہ قبل خیریت معلوم کرنے کے لیے اسے فون کیا‘ یہ بے چارہ جنگ کی وجہ سے پریشان تھا‘
میں نے اسے تسلی دی‘ ہماری بات چیت کے دوران میرا ایک دوست میرے پاس بیٹھا تھا‘ فون بند ہوا تو اس نے اعتراض کیا ’’تم یہودیوں سے بات کرتے ہو‘ تمہیں برا نہیں لگتا؟‘‘ میں نے پوچھا ’’مجھے برا کیوں لگے گا؟‘‘ اس کا کہنا تھا قرآن مجید میں اللہ کا ارشاد ہے یہودونصاریٰ تمہارے دوست نہیں ہو سکتے‘ میں نے عرض کیا ’’مسلمان کی حیثیت سے قرآن مجید اور رسول اللہ ﷺ کا ہر ارشاد میرے لیے فرض ہے لیکن یہاں پر چند سوال پیدا ہوتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کسی جگہ ہندوئوں کو دشمن قرار نہیں دیا مگر ہم اس کے باوجود ان سے مسلسل لڑ رہے ہیں‘ دوسرا ہم جب تک یہودیوں اور عیسائیوں کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان نہ لے آئیں ہم اس وقت مسلمان نہیں ہو سکتے اگر یہ ہمارے دوست نہیں ہو سکتے تو پھر ہم ان کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان کیوں لاتے ہیں اور تیسرا اگر صرف یہی ہمارے دشمن ہیں تو پھر ہم بھارت کے ہندوئوں سے کیوں بھڑ رہے ہیں اور شیعہ مسلمان سنی مسلمان سے کیوں لڑ رہا ہے؟‘‘ وہ سن کر مسکرایا اور پھر بولا ’’تم کہنا کیا چاہتے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’میں عالم نہیں ہوں‘ میں صرف اسلام کا ادنیٰ اور نالائق طالب علم ہوں‘ فیصلہ صرف علماء کرام کرسکتے ہیں‘ میں صرف سوال کر سکتا ہوں اور اپنے خیال کا اظہار کر سکتا ہوں‘ میرا خیال ہے قرآن مجید کے بعض احکامات واقعاتی ہیں‘ کوئی واقعہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے مسلمانوں کی رہنمائی فرما دی اگر یہودونصاریٰ کے بارے میں فرمان حکم ہوتا تو رسول اللہ ﷺ یہودیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کرتے اور خلفاء راشدین کے دور میں اسلامی ریاست میں کوئی عیسائی یا یہودی نہ ہوتا جب کہ حقیقت میں
رسول اللہ ﷺ اور خلفاء راشدین کے دور میں عرب علاقوں میں یہودی اور عیسائی تھے اور بعد کے ادوار میں بھی یہ مختلف حکومتوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے‘ تیسرا دوستی اور دشمنی کا کسی مذہب کے ساتھ تعلق نہیں ہوتا‘ یہ انفرادی فعل ہوتا ہے‘ دشمن آپ کا سگا بھائی بھی ہو سکتا ہے اور دوست لادین اور مخالف مذہب کا بھی‘ آپ افغانستان کی مثال لے لیں‘ افغان ہمارے مسلمان بھائی ہیں‘ ہم نے ان کے لیے 45 سال قربانیاں دیں‘ طالبان 25سال ہمارے پاس پناہ گزین بھی رہے لیکن آج ہم رمضان میں ان پر حملے کر رہے ہیں اور یہ مسجدوں اور امام بارگاہوں میں نماز پڑھتے مسلمانوں کو شہید کر رہے ہیں‘ دوسری طرف عرب ملکوں سے ایران پر حملے ہو رہے ہیں اور ایرانی میزائل رمضان میں گلف کے مسلمانوں پر برس رہے ہیں‘ اسرائیل کے یہودی اور امریکا کے عیسائی مڈل ایسٹ کے مسلمان عرب ملکوں کی حفاظت کر رہے ہیں لہٰذا اگر صرف یہود اور نصاریٰ ہمارے دشمن ہیں تو پھر پاکستان‘ افغانستان‘ ایران اور عرب ملکوں کے مسلمان ایک دوسرے سے کیوں لڑ رہے ہیں اور عیسائی اور یہودی عربوں کی حفاظت کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ میرے دوست نے فوراً جواب دیا ’’اپنا اپنا مفاد ہے‘‘ میں نے قہقہہ لگایا اور عرض کیا ’’میں بھی یہی بتا رہا ہوں‘ یہ مذہب کی جنگ نہیں‘ یہ مفادات کی لڑائی ہے اور ہر دور میں انسانوں اور ملکوں کی جگہ مفادات لڑتے رہتے ہیں مذہب نہیں‘‘ میرے دوست نے میرے ساتھ اتفاق نہیں کیا‘ میرا خیال ہے آپ بھی میرے ساتھ اختلاف کریں گے لیکن میرا خیال ہے لڑائی صرف مفادات کی ہے اور اس میں دور دور تک مذہب کا کوئی ہاتھ نہیں تاہم ماضی کی طرح آج بھی حکمران عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مذہب کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
میں آپ کو اسرائیل واپس لے جاتا ہوں‘ حضرت ابراہیم ؑ عراق میں تنگ ہوئے تو آپ ؑ یروشلم تشریف لے آئے‘ آپ ؑ نے مصر میں بھی سیٹل ہونے کی کوشش کی مگر وہاں حالات سازگار نہیں تھے لہٰذا آپ ؑ آج کے فلسطین میں مقیم ہو گئے‘ اللہ تعالیٰ نے آپ ؑ کے دم قدم سے اس زمین کو برکتوں سے نواز دیا‘ حضرت یعقوبؑ کے زمانے میں قحط پڑااوروہ بارہ صاحب زادوں کے خاندانوں سمیت مصر شفٹ ہو گئے‘ حضرت یوسف ؑ کے بعد فرعونوں نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا اور ان سے بگار لینے لگے‘ چار سو سال کی غلامی اور ذلالت کے بعد حضرت موسیٰ ؑانہیں مصر سے فلسطین واپس لے آئے‘ بنی اسرائیل نے یہاں موجود قوموں کو مار کر نکال دیا اور فلسطینی علاقوں پر قابض ہو گئے‘ پھر بنی اسرائیل کے قبائل کے درمیان اختلافات ہوئے اور دس قبیلوں نے یہودیوں کو نکال دیااور یہ دریائے اردن کے مغربی کنارے پر آباد ہو گئے‘ حضرت دائود ؑ بنی یہودا کو یروشلم میں واپس لے آئے اور انہیں حکمران بنا دیا‘ حضرت سلیمان ؑ نے یہودی اقتدار کو مزید دوام دیا‘ یہ ان کے بعد بڑی مدت تک حکمران رہے پھر آتش پرست بخت نصر لوٹنے کے لیے آیا‘ ان کی دولت لوٹی‘ فرسٹ ٹیمپل توڑا‘ شہر جلایا اور غلام بنا کر انہیں ایران لے گیا‘ بخت نصر کا حملہ بھی مذہبی نہیں تھا‘ وہ یہودیوں کی اس دولت کے لیے یروشلم آیا جسے انہوں نے ہیکل سلیمانی (فرسٹ ٹیمپل) میں چھپا رکھا تھا‘ بخت نصر نے سونے کے حصول کے لیے ہیکل سلیمانی گرایا تھا۔ اس سے قبل بنی اسرائیل کے دس قبائل اور بنو یہودا کے درمیان ہونے والی لڑائی بھی وسائل اور اقتدار کی جنگ تھی‘ اس میں عقائد کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اگر مذہب کی کوئی جنگ ہو سکتی تو وہ یہودیوں اور عیسائیوں کے درمیان ہوتی‘ کیوں؟ کیوں کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو صلیب (عیسائی عقائد کے مطابق) پر چڑھا دیا تھا‘ انہوں نے مسیحیوں کو یروشلم سے بے دخل بھی کر دیا تھا اور انجیل کے اوراق بھی جلا دیے تھے لیکن اگر یہ آج ایک دوسرے کے ساتھی اور دوست ہیں تو پھر باقی مذاہب کا یہودیوں کے ساتھ کیا اختلاف ہو سکتا ہے؟ حضرت عمرفاروقؓ کے زمانے میں یروشلم پر بازنطینی عیسائی قابض تھے‘ مسلمانوں نے یہ علاقہ عیسائیوں سے لڑ کر حاصل کیا ‘ فلسطین کو فلسطین کا نام حضرت امیر معاویہؓ نے دیا تھا‘ یروشلم کے لیے صلیبی جنگیں یورپ کے عیسائیوں اور کرد سلطان صلاح الدین ایوبی کے درمیان ہوئی تھیں‘ سلطان صلاح الدین ایوبی شام اور مصر کے حکمران تھے‘ فلسطین شام کا حصہ تھا اور اس حصے پر عیسائی قابض تھے‘ یہ اس زمانے کا کشمیر تھا چناں چہ سلطان نے طویل لڑائیوں کے بعد یہ واپس لے لیا‘ یورپ اس وقت منقسم تھا‘ اسے اکٹھا کرنے کے لیے مشترکہ ایجنڈے کی ضرورت تھی‘ بادشاہوں نے پادریوں کی مدد لی اور انہوں نے اس جنگ کو صلیبی جنگ ڈکلیئر کر دیا جس کے بعد سپاہیوں کو مرنے کے لیے جواز مل گیا‘ فلسطین اس کے بعد 1920ء تک آٹھ سو سال مسلمانوں کے پاس رہا‘ یہودیوں کی دیوار گریہ عثمانی خلیفہ سلطان سلیمان نے ان کے حوالے کی تھی‘ اس کے زمانے میں زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں دیوار کے ساتھ بنے مکانات گر گئے اور دیوار ظاہر ہو گئی‘ اس سے قبل یہودی دیوار کے بارے میں جانتے تک نہیں تھے‘ سلطان سلیمان نے یہ علاقہ (مغربی کوارٹرز) اور دیوار یہودیوں کے حوالے کر دی جب کہ دیوار کو عبادت گاہ اسرائیل کے وزیر دفاع اور وزیر خارجہ وزیراعظم موشے دیان نے 1970ء کی دہائیمیں بنایا تھا‘ وہ آیا‘ اس کے ساتھ کھڑے ہو کر تورات کی تلاوت کی اور یوں یہ عبادت گاہ بن گئی‘ یہودیوں کو فلسطین واپس آنے کی اجازت سلطان عبدالحمید دوم نے 1897ء اور 1903ء میں دی اگر مسلمانوں کا یہودیوں سے اختلاف ہوتا تو عثمانی خلفاء انہیں دیوار گریہ اور فلسطین میں آباد کاری کی اجازت کیوں دیتے؟۔
آج تک کی تاریخ میں عیسائیوں کو سب سے زیادہ نقصان یہودیوں نے پہنچایا‘ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو صلیب پر چڑھا دیا‘ یہودیوں نے بھی سب سے زیادہ نقصان عیسائیوں کے ہاتھوں اٹھایا‘ روس کے زار ہوں یا سوویت یونین کے لینن اور سٹالن ہوں یا پھر جرمنی کا ایڈولف ہٹلر ہو یہ سب عیسائی تھے مسلمان نہیں‘ ہولوکاسٹ کے ذمہ دار بھی مسیحی تھے جب کہ یہودی ہر دور میں اندلس سے لے کر سمرقند اور بخارا تک مسلمانوں کے پاس امن اور سکون سے رہے‘ دنیا میں اسرائیل کے بعد سب سے زیادہ یہودی ایران میں تھے‘ شاہ ایران کے دور میں تہران میں بہت بڑا اسرائیلی سفارت خانہ تھا‘ یہودی اس زمانے میں ایران کے بڑے بزنس مین تھے اور پارلیمنٹ کا حصہ تھے ‘ آج بھی اصفہان میں سیناگوگ موجود ہے‘ یہودی انقلاب کے بعد بھی ایران میں رہے اور بعدازاں اپنی مرضی سے اسرائیل شفٹ ہوئے چناں چہ ایران اور مسلمانوں کے ساتھ ان کا کوئی پھڈا نہیں تھا‘ یہ لڑائی سازش کے تحت جان بوجھ کر کرائی گئی‘ اسرائیل عربوں کے تیل اور گیس کے ذخائر پر قبضے کے لیے بنایا گیا تھا‘ آپ یقین کریں اگر ایران اور عرب علاقوں سے تیل نہ نکلتا تو اسرائیل بنتا اور نہ عربوں میں بادشاہت آتی‘ بادشاہت کا مقصد تیل کی دولت پر قبضہ تھا جب کہ اسرائیل کے ذریعے مڈل ایسٹ کے مسلمانوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے اور عالم اسلام میں خوف پھیلایا جا رہا ہے‘ اگر یہ جنگ مذہبی ہوتی تو پھر اسرائیل انڈونیشیا اور ملائیشیا سے کیوں نہیں لڑ رہا‘ انڈونیشیا آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا مسلمان ملک ہے لیکن اسرائیل کا انڈونیشیا سے کوئی پھڈا نہیں‘ اسے عقلی لحاظ سے سب سے پہلے بڑے اسلامی ملک سے لڑناچاہیے تھا لیکن یہ ا س سے کیوں نہیں لڑ رہا؟ کیوں کہ انڈونیشیا کے پاس تیل اور گیس نہیں اگر ہوتی تو یہ جنگ آج انڈونیشیا کے ساحلوں پر لڑی جا رہی ہوتی‘ دوسرا یروشلم میں قبلہ اول کی کوئی لڑائی نہیں‘ حضرت ابراہیم ؑ کی مسجد آزاد ہے‘ اس پر کوئی لڑائی نہیں ہاں البتہ عبدالملک بن مروان نے یہودیوں کے سیکنڈ ٹیمپل کی جگہ ’’ڈوم آف دی راک‘‘ بنایا جس کے نیچے وہ چٹان ہے جہاں براق باندھا گیا تھا اور جہاں سے رسول اللہ ﷺ نے معراج کا سفر شروع کیا تھا‘ یہ جگہ بھی 1300 سال غیرمتنازع رہی اور یہاں یہودی اور مسلمان حتیٰ کہ عیسائی بھی عبادت کرتے رہے‘ اسے اب بھی مشترکہ عبادت گاہ کی حیثیت دی جا سکتی ہے تاکہ تینوں مذاہب یہاں عبادت کر سکیں لیکن یہ نہیں ہو گا کیوں کہ اس کے بعد اختلافات ختم ہو جائیں گے اور یہ بڑی طاقتوں کو وارہ نہیں کھاتا‘ تیسرا یہودی حضرت دائود ؑ کی ریاست (گریٹر اسرائیل) دوبارہ بنانا چاہتے ہیں‘
یہ پروپیگنڈا ہے اور اس کا مقصد مسلمان نوجوانوں کے دل میں نفرت پیدا کرنا ہے تاکہ فسادات کا سلسلہ جاری اور ساری رہے‘ ایران کو بھی جان بوجھ کر اسرائیل کی مخالفت میں دھکیلا گیا تاکہ عالم اسلام منقسم رہے اور تیل کی دولت امریکا اور یورپ کی جیب میں گرتی رہے‘ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پانچ مارچ کو پادری اپنے پیچھے کھڑے کر کے ایران پر حملے کو صلیبی جنگ بنانے کی کوشش کی لیکن سوال یہ ہے کیا صرف ایرانی مسلمان ہیں اور کیا صلیبی جنگ صرف ایران کے خلاف لڑی جائے گی؟ اور کیا ڈونلڈ ٹرمپ ان عربوں کو مسلمان نہیں سمجھتا جو اس وقت حرمین شریفین کے محافظ اور مختار ہیں؟ دوسرا اگر یہ لڑائی یہودیوں اور مسلمانوں کی ہے تو پھر نیتن یاہو سعودی عرب‘ یو اے ای‘ بحرین‘ قطر‘ کویت اور عمان پر حملہ کیوں نہیں کر رہا؟ کیا یہ انہیں مسلمان نہیں سمجھتا؟کیا صرف ایرانی ہی مسلمان ہیں؟ یہ یاد رکھیں یہ مکمل طور پر وسائل اور مفادات کی لڑائی ہے‘ امریکا دنیا کے تیل اور گیس کے تمام بڑے ذخائر اپنے قبضے میں رکھنا چاہتا ہے اور یہ اس چکر میں اسرائیل اور عرب دونوں کو استعمال کر رہا ہے‘ یہ لڑائی صرف مذہبوں کی ہوتی تو پھر کبھی عیسائی امریکا عیسائی وینزویلا پر حملہ نہ کرتا‘ ٹرمپ وہاں بھی تیل کے لیے گیا تھا اور یہ ایران بھی گیس اور تیل کے لیے آیا ہے‘ بس بات صرف اتنی سی ہے اور اتنی سی بات کے لیے ہزاروں لوگ مر چکے ہیں اور ہزاروں مزید بے گناہ اور معصوم مارے جائیں گے۔ نوٹ: یہ ’’مذہب کی جنگ‘‘ کی سیریز کے چھ کالموں کا آخری کالم ہے‘ آپ پورے ایشو کو سمجھنے کے لیے پچھلے پانچ کالم ضرور پڑھ لیں۔
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں



























