ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

پاکستان پر عالمی سفری پابندیوں میں 3ماہ کی توسیع

datetime 11  مارچ‬‮  2026 |

اسلام آباد (این این آئی)ڈبلیو ایچ او نے پاکستان پر سفری پابندیاں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تین ماہ کی توسیع کردی ۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ پاکستان کی پولیو سے متعلق سرویلنس مزید تین ماہ جاری رہے گی، بیرون ملک جانے والوں کی پولیو ویکسینیشن لازم ہوگی، ڈبلیو ایچ او 3 ماہ بعد انسداد پولیو کے لیے پاکستانی اقدامات جائزہ لے گا۔اعلامئے کے مطابق کمیٹی نے پاکستان میں پولیو کی صورت حال اور حکومتی اقدامات پر غور کیا اور دیکھا کہ پاکستان اور افغانستان پولیو وائرس کے عالمی پھیلائو کیلئے بدستور خطرہ ہیں اور دونوں ممالک پولیو وائرس کے عالمی پھیلائو کے ذمہ دار ہیں۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان، افغانستان پولیو سے متعلق ایک دوسرے کے لیے بھی خطرہ ہیں، ان ممالک میں وائلڈ پولیو وائرس کا پھیلا ئوقابل تشویش ہے، اعلامئے میں کہا گیا کہ عالمی سطح پر یہ وائرس پاکستان اور افغانستان تک محدود ہے، اور ان میں باہمی آمدورفت پھیلائو کا اہم ذریعہ ہے۔ تاہم عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ 2025ء میں پاک افغان سرحد سے پولیو کی منتقلی میں کمی آئی ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں کی سیوریج میں پولیو پایا گیا ہے تاہم پاک، افغان پولیو کی منتقلی کوئٹہ بلاک، کے پی سے جاری ہے، گزشتہ سال پاکستان میں 31 پولیو کیس سامنے آئے، اور 608 سیوریج سیمپلز پازیٹو نکلے، جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس کا پھیلا بھی بدستور جاری ہے، جب کہ 2025میں کراچی سے وائلڈ پولیو وائرس ون کا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں انسداد پولیو کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا اور پولیو مہم کے معیار اور کوریج ریٹ کی تعریف کی اور اس پر اعتماد کا اظہار کیا۔ اور کہا کہ پاکستان میں صوبائی اور علاقائی سطح پر موثر پولیو مہمات جاری ہیں تاہم پاک افغان سرحدی اضلاع میں مثر پولیو مہمات نہیں چلائی گئیں، کوئٹہ بلاک، جنوبی کے پی میں پولیو مہم بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق جنوبی کے پی میں تمام بچوں تک رسائی کا چیلنج درپیش ہے، خیبرپختونخوا میں ڈھائی لاکھ بچے پولیو ویکسین سے محروم ہیں، جہاں مہم کے لیے سیکیورٹی صورت حال بہتر نہیں ہے۔ڈبلیو ایچ او نے کراچی میں وائلڈ پولیو وائرس کی مسلسل موجودگی پر تشویش کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی پولیو مہمات کا ڈیٹا قابل اعتماد نہیں ہے، ویکسین سے محروم بچوں کی تعداد حکومتی ڈیٹا سے زائد ہے۔پاکستان پولیو کا پھیلائو روکنے کیلئے ٹیگ کی سفارشات پر عمل کرے، جنوبی خیبرپختونخوا، کوئٹہ بلاک پولیو کے حوالے سے حساس ہیں، وسطی ایریاز، جنوبی کے پی، کوئٹہ بلاک میں ڈبلیو پی وی ون پھیل رہا ہے۔

پاکستان پولیو کے حساس علاقوں میں مثر مہمات کا انعقاد یقینی بنائے اور دونوں پڑوسی ممالک میں پولیو کا پھیلا ئوروکنے کیلئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، تمام بچوں تک رسائی ناگزیر ہے۔عالمی ادارہ صحت نے اعلامئے میں کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں لو ٹرانسمیشن سیزن میں ہائی کوالٹی پولیو مہم چلانا ہوں گی، اور دونوں ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا، پاک افغان باہمی تعاون کا فروغ ناگزیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…