اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

نئی سیاسی صف بندی میںچاروں صوبوں میں ’’باپ ‘‘ اور ’’سوتیلے بیٹوں ‘‘کا اتحاد نظر آرہا ہے، حافظ حسین احمد کا ڈاکٹر عدنان بارے بھی تہلکہ خیز دعویٰ

datetime 5  اپریل‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی /کوئٹہ ( آن لائن ) جمعیت علماء اسلام پاکستان کے رہنما اور سینئر سیاستدان حافظ حسین احمد نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو آر پار کرنے کے دعویدار خود پارہ پارہ ہوگئے ہیں اور لانگ مارچ ،استعفے اور عمرانی حکومت گرانے کے بلند و بانگ دعوے ’’لیڈ ربھبکیاں‘‘ ثابت ہوچکی ہیں ، ہر جماعت اپنے مفادات اور معاملات کو طے

کرنے کی دوڑ میں لگی رہی جبکہ پی ڈی ایم کے خاتمے کا الزام ایک دوسرے پر لگایا جاتا ہے ڈاکٹر عدنان کے آمد کی خبر کے ساتھ ہی پی ڈی ایم کا یہ حشر تو ہونا ہی تھا۔ پیر روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق سینیٹر حافظ حسین احمد کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم میں شامل ہر جماعت نے اپنی بساط کے مطابق حکومت کی سہولت کاری کا حق ادا کیاکسی نے پنجاب میں تحریک انصاف کے ساتھ ملکر سینیٹر منتخب کرائے اور کسی نے سنجرانی کو ایکسٹینشن دلوانے میں کردار ادا کیاجبکہ مسلم لیگ ن کے شہ پر مبینہ طور پر لانگ مارچ کے ساتھ استعفوں کو نتھی کیا گیاتاکہ لانگ مارچ سے جان چھڑائی جاسکے اور سارا الزام پیپلز پارٹی کے سر ڈالا جاسکے ، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے ان اقدامات کے بعد کیا شوکاز نوٹس دیا جاسکتا ہے جبکہ پی ڈی ایم کی تشکیل ہی پیپلز پارٹی کے ہاتھوں ہوئی ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ استعفوں کے آڑ میں لانگ مارچ کو یکسر ختم کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ پی ڈی ایم کسی تحریک چلانے سنجیدہ نہیں کیوں کہ اگر پیپلز پارٹی پیچھے ہٹ چکی ہے تو پھر بھی 9ستارے رہ گئے ہیں کیا ان میں بھی کوئی روشنی نہیں رہی ، ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لندن کا موسم ایک بار پھر خوشگوار ہوتا جارہا ہے دیکھیں اس بار ڈاکٹر عدنان کون سی گیدڑ سنگھی کا سہارا لیں

گے ، انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا پی ڈی ایم کے نمائشی سربراہ کسی جماعت کو شوکاز نوٹس دینے کا اختیار بھی رکھتے ہیں یا نہیں ، حافظ حسین احمد نے کہا کہ لگتا ہے کہ ملک میں ایک نئی سیاسی صف بندی کا نقشہ ترتیب دیا جارہا ہے جس میں کل کے حلیف حریف ہونگے اور چاروں صوبوں میں اپوزیشن کا اتحاد ہی نہیں بلکہ ’’باپ ‘‘ ان کے’’ سوتیلے بیٹوں‘‘ کا اتحاد نظر آرہا ہے ۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…