بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

عمران خان کا فرمانا کہ تبدیلی کیلئے 5 سال کافی نہیں، ناکامی کی دلیل قرار

datetime 13  فروری‬‮  2021 |

کراچی(آن لائن) پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے الیکشن سے قبل 100 روز میں تبدیلی کا وعدہ کیا جو پورا نہ ہونے پر عوام کو مزید چھ مہینے کی نوید سنائی۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ فرمانا کہ تبدیلی کے لیے 5 سال کا عرصہ کافی نہیں، وفاقی حکومت کی ناکامی کی دلیل ہے۔

اسکی مثال ایسی ہی ہے کہ ناچ نا جانے آنگن ٹیڑھا۔ دنیا بھر کی جمہوریتیں 4-5 سال میں عوامی فلاح کے اتنے کام کرجاتیں ہیں کہ اقتدار میں نئے آنے والوں کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہیں۔ جبکہ پاکستان میں الٹا ہی حساب ہے، یہاں ماضی اور حال میں بلند و بانگ دعووں کیساتھ جو اقتدار میں آیا اسکی تمام توانائیاں اقتدار کی بقا کی خاطر مخالفین کو زیر کرنے اور کرپشن میں صرف ہوئیں۔ نتیجتاً اختیارات اور وسائل پر قابض لفظوں کے سوداگر بے بس عوام کو انتخابات آتے ہی پھر لفظوں کے جال میں پھنساتے ہیں۔ حکمران قوم کو بے وقوف سمجھنے کی غلطی نا کریں۔ پی ٹی آئی کی حکومت اگر انتخابی و معاشی اصلاحات سمیت صحت، تعلیم، پولیس، عدلیہ اور دیگر شعبوں میں اصلاحات پر کام کرتی تو آج نصف دور اقتدار گزر جانے کے بعد عوام کو تبدیلی کے ثمرات ملنا شروع ہوجاتے اور عمران خان کو یہ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی کے تبدیلی کے لیے 5 سال کم ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ کہنا کہ پانچ سال میں تبدیلی ناممکن ہے عوام سے امید کی کرن چھین لینے کے مترادف ہے۔ اقتدار ملنے کی تیاری سیاسی جماعتوں کی جانب سے اقتدار ملنے سے قبل کی جانی چاہیے۔ موجودہ صورتحال میں پاکستان کا نظام مزید نہیں چل سکتا۔ پاک سرزمین پارٹی گرینڈ نیشنل ڈائلاگ کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں قومی اتفاقِ رائے سے 10، 20

اور 50 سالہ اہداف کا تعین کیا جائے جس کے بعد تمام سیاسی جماعتیں اپنا پارٹی منشور پیش کر کے عوام سے مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان ہاؤس میں الیکشن سیل کے زمہ داران کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…