بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

وزیراعظم کو فون کرنے کیلئے دیا جانے والا نمبر الیکشن کمیشن کی فیکس مشین کا تھا، تہلکہ خیز انکشاف

datetime 7  فروری‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم پاکستان عمران خان نے چند روز قبل ڈیڑھ گھنٹہ براہ راست عوام کی کالز سنیں اور ان کے مسائل سنے اور سوالات کے جواب دیے، اس حوالے سے معروف اینکر کامران شاہد اور لیگی رہنما عظمیٰ بخاری نے تہلکہ خیز دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پروگرام میں کال

کرنے کے لئے جو نمبر دیا گیا وہ الیکشن کمیشن کی فیکس مشین کا تھا۔ اینکر کامران شاہد نے دوران پروگرام بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان اس پروگرام میں پہلی مرتبہ عوام کی براہ راست کالز لے رہے تھے اور اس حوالے سے پاکستان ٹیلی ویژن کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا جس میں لوگوں کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں، ان لوگوں نے وزیراعظم کے پروگرام کو ترتیب دینا تھا، کامر ان شاہد نے کہاکہ اس پروگرام کیلئے پروڈکشن ٹیم کے 15 لوگوں کو کام پر لگایا گیا، انہوں نے کہا کہ عام طور پر وزیراعظم کے پروگرام کے لیے ایک ہی پروڈیوسر کا فی ہوتاہے لیکن اس روز 7 پروڈیوسر ز کو پی ٹی وی کے دیگر ضروری کاموں سے نکال کر یہاں ڈیوٹی پر مامور کیا گیا تاکہ اس پروگرام کو کامیاب بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم سے چیدہ چیدہ سوال کروانے تھے اور اس کیلئے ہر سیگمنٹ میں دو دو ایڈیٹرز کام کررہے تھے، جن کا کام یہ تھا کہ وہ سلیکٹڈ سوالات سامنے کریں، تینوں سیگمنٹ میں دو دو ایڈیٹرز مصروف عمل رہے، انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ون پارٹی اپروچ نظر آتی ہے جو اس سے پہلے نوازشریف اور زرداری کی تھی کہ سرکاری ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے اپنی پارٹی کو آگے لانا اور ساتھ ہی اپنی پارٹی کی نا اہلیت کو سامنے آنے سے بچانا،یہی کام اب عمران خان حکومت میں ہو رہا ہے۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے پروگرام میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ

پی ٹی وی کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں نے عوام کے لئے جاری کیا تھا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جو ٹیلیفون نمبر عمران خان سے بات کرنے کیلئے جاری کیا گیا وہ الیکشن کمیشن کی فیکس مشین کا تھا، عوام فیکس مشین پر ہی کالیں کرتی رہی۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمی بخاری نے اپنے

ایک بیان میں کہا ہے کہ ڈپہ پارٹی کی سیاست دھاندلی،پکڑ دھکڑ،لوٹ مار اور مافیا ازم کے اردگرد گھوم رہی ہے،فردوس باجی آپ پھپے کٹنی کی طرح روز ماتم کرنے آجاتی ہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ عمران خان اپنے دوستوں میں این آر او تقسیم کررہے ہیں اور فردوس باجی بچوں میں گولیاں ٹافیاں بانٹ رہی ہیں،سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ آرڈیننس اعلی عدلیہ کے وقار پر حملہ ہے،ایک سلیکٹڈ وزیراعظم نے طاقت کے نشے میں چور ہوکر

سپریم کورٹ کو چیلنج کیا ہے۔عمران خان کو اپنے ہی ارکان پر اب بھروسہ نہیں رہا اس لیے ایسے آرڈیننس لارہے ہیں۔قوم لنگرخانوں پر،پارلیمنٹ آرڈیننس پر اور ملک اللہ کے سہارے چل رہا ہے۔لنگر خانوں کی سرکار نے پوری قوم کو صدقہ خیرات پر لگانے کامنصوبہ بنادیا ہے،پاکستان کو لنگرخانوں اور ڈرامے باز سیاستدانوں کی ضرورت نہیں۔پاکستان کو نوازشریف اور شہبازشریف جیسے ملکی ترقی کے ویژن رکھنے والے لیڈرز کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…